ابوالحسن نغمی کی یادوں کا خزانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ لوگ جو ساٹھ کے عشرے کے اوائل میں پانچ چھ برس کے تھےاور ریڈیو پاکستان لاہور سے بچوں کا مقبول ترین پروگرام ’بچوں کی دنیا‘ سنا کرتے تھے ان کے ذہنوں میں اس پروگرام کی آپا جان موہنی حمید اور بھائی جان ابوالحسن نغمی کی آوازیں بلا شبہ محفوظ ہونگی ۔ یہ دونوں آوازیں جیسے لاہور ریڈیو کی شناخت بن گئی تھیں۔ وقت بدلا اور پھر موہنی حمید اور نغمی صاحب دونوں امریکہ میں آباد ہوگئے۔ ابوالحسن نغمی لاہور ریڈیو سے وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں آ گئے اور اس طرح مائکروفون کے ذریعے ان کا اپنے سامعین سے رابطہ برقرار رہا۔ بقول خود نغمی صاحب کے وہ رہے تو امریکہ میں لیکن انکا دل ہمیشہ لاہور میں بلکہ لاہور کے پرانے ریڈیو اسٹیشن میں رہا۔ اب ابوالحسن نغمی نے اپنی یادوں کو مجتمع کر کے کچھ عرصے پہلے اسے کتابی شکل دی ہے اور اس کتاب کا نام بھی ’یہ لاہور ہے‘ رکھا ۔ یہ تین الفاظ در حقیقت لاہور ریڈیو کا کال سائن تھے۔ لاہور کا پرانا ریڈیو اسٹیشن شملہ پہاڑی کے قریب گورنر ہاؤس کے عقبی دروازے کے ساتھ ہی تھا اور یہ سر فضل حسین کی کوٹھی میں قائم کیا گیا تھا جس کا حکومت کرایہ ادا کرتی تھی۔ میں خود بھی اپنے والد کے ساتھ بچپن میں اسی پرانے ریڈیو اسٹیشن پر بچوں کے پروگرام میں جایا کرتا تھا۔ نغمی صاحب نے اپنی اس کتاب میں ایک تو لاہور ریڈیو کی یادوں کو دستاویزی صورت میں محفوظ کر دیا ہے اور دوسرے اگرچہ کسی بھی پاکستانی حکومت کو اس تاریخی عمارت کو محفوظ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی لیکن بچوں کے پروگرام کے بھائی جان نے اس پرانے اور تاریخی ریڈیو اسٹیشن کو کتاب میں محفوظ بھی کیا ہے اور جیسے زندہ بھی کر دیا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی طرز تحریر ہے کہ پڑھنے والا جیسے ان تمام مقامات پر خود اپنے کو محسوس کرتا ہے اور ریڈیو کی جن جن شخصیات کا انہوں نے ذکر کیا ہے قاری خود ان سے ملاقات کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کسی بھی تصنیف کی کامیابی کا ایک بہت بڑا معیار یہ بھی ہے کہ قاری اگر ایک نہیں تو زیادہ سے زیادہ دو نشستوں میں اسے پڑھ ڈالے اور اس کتاب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ میں نے اس کتاب کو ایک سے زائد مرتبہ پڑھا ہے اور ہر مرتبہ ایک الگ طریقے سے لطف اندوز ہوا ہوں۔ کتاب کا نہایت مختصر مگر نہایت جامع ابتدائیہ پاکستان کے معروف طنز و مزاح نگار انور مقصود نے لکھا ہے اور صرف چودہ سطور میں اس پوری کتاب کو سمو کر رکھ دیا ہے۔ بقول انور مقصود کے ’نغمی صاحب نے ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ لوگوں کی سیرت و شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی اتنی خوبصورت اور کامیاب عکاسی کی ہے کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے اور نقشہ کشی اس انداز کی ہے کہ نہ کوئی بات ادھوری اور نہ کوئی زیادہ۔ چار سو اٹھائیس صفحات کی یہ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے جس میں ہر رخ سے لاہور ریڈیو کی تاریخ لکھ دی گئ ہے۔ عرض مصنف میں یہ لکھ کر انہوں نے لاہور اور لاہور ریڈیو سے اپنی ابدی محبت کا ثبوت دے دیا ہے کہ ’لاہور میرے دل کی دھڑکن کا نام ہے اور جب میں کہتا ہوں یہ لاہور ہے تو دراصل میں اپنی ہی جانب اشارہ کرتا ہوں کیونکہ دراصل میں خود لاہور ہوں ۔ لاہور میرا وطن اور اس وطن کا دل زمین کا وہ ٹکڑا ہے جو شملہ پہاڑی کے نزدیک لاہور ریڈیو کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘ اس کتاب کا پہلا باب لاہور کے پرانے ریڈیو اسٹیشن کے بارے میں ہے اور یہ یادوں کو جمع کرنے اور انہیں تحریر کرنے کا وہ ڈرامائی انداز ہے جس میں لکھنے والا حاضر میں رہتے ہوۓ ماضی میں چلا جاتا ہے اور ڈرامے کی اصطلاح میں اسے فلیش بیک کہا جاتا ہے۔ ’ذرا لمحے بھر کو ٹھہریۓ میں بتاتا ہوں- یہ شملہ پہاڑی ہے اور یہ سڑک گورنر ہاؤس کے گیٹ پر ختم ہوتی ہے- یہ بائیں جو مکان ہے اس میں فیض احمد فیض انکی بیگم اور اور دو پیاری پیاری بچیاں سکونت پذیر ہیں۔ فیض کے مکان کے بالکل مقابل میاں فضل حسین کی کوٹھی ہے جسے حکومت نے کراۓ پر لے کر دوسری عالمی جنگ کے دنوں میں ریڈیو اسٹیشن بنا لیا تھا۔ یہ سیاہ آہنی گیٹ ہے- اندر تشریف لائیے۔ یہاں سٹول پر یہ سرخ و سپید شخص کون ہے؟ یہ دیوان علی چوکیدار ہے یاروں کا یار یہاں تک کہ مولانا کوثر نیازی بھی اس کے یار وفادار ہیں۔‘ دیکھا آپ نے کس طرح نغمی صاحب نے چند فقروں میں پورا نقشہ کھینچ کے رکھ دیا اور یہی کمال کی فضا ہے جو پوری کتاب میں قائم ہے اور اس وقت تک محسوس نہیں کی جا سکتی جب تک اس کا مطالعہ نہ کیا جاۓ۔ کتاب کا دوسرا باب لاہور ریڈیو کی بیس چنیدہ شخصیات کے بارے میں ہے اور ان میں سے ہر شخصیت پر انہوں نے اس بھرپور انداز میں لکھا ہے کہ جیسے مرحومین کو زندہ اور زندوں کو امر کر دیا ہے۔ اس باب میں خاص طور پر ناصر کاظمی، مصطفیٰ علی ہمٰدانی، اخلاق احمد دہلوی، استاد امانت علی، اشفاق احمد، صوفی تبسم اور میرزا ادیب کے بارے میں لکھے ہوۓ مضامین ان اصحاب کی مکمل اور ہو بہو تصویر بنا دیتے ہیں۔ تیسرا اور چوتھا باب ریڈیو کے مختلف اور نہایت دلچسپ واقعات اور بچوں کے پروگرام کی یادوں پر مشتمل ہے جبکہ پانچواں چھٹا اور ساتواں باب ریڈیو کی ملازمت کے دوران کے نشیب و فراز سے لیکر وائس آف امریکہ جانے تک کے واقعات ہیں جو یوں تو ہیں انکے ذاتی واقعات ہیں لیکن ان سے اس وقت کی فضا اور حالات کار کا اندازہ ہوتا ہے جو عام قاری کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہے۔ کبھی الوداع نہ کہنا کے عنوان سے کتاب کا آخری باب قدرے جذباتی ہے اور خاص طور پر یہ فقرے کہ ’یہاں امریکہ میں رہتے ہوۓ مجھے تیس سال ہو چکے میرے وہ چھ بچے جنکی پرورش کے لیۓ میں کراۓ کی سائیکل پر حصول رزق کے لیۓ مارا مارا پھرتا تھا اب ماشااللہ خود بچوں والے ہیں مگر وہ جو میں خواب دیکھا کرتا ہوں کہ میں دوبارہ ریڈیو پاکستان میں سکرپٹ رائٹر ہوں بے سبب نہیں وہ خواب میرے لا شعور کی غمازی کرتا ہے اور دبی ہوئی آرزو کا اظہار ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||