BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 June, 2004, 05:05 GMT 10:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دشت تنہائی‘ کے باسی

ندیم اسلم
کتاب کی تکمیل میں گیارہ برس لگے
بیرون ملک مقیم پاکستانی برادری کی کہانی پر مشتمل پاکستانی نژاد مصنف ندیم اسلم کی نئی کتاب چوبیس جون کو برطانیہ بھر میں شائع ہو رہی ہے۔

اس کتاب کی کہانی شمالی برطانیہ کے ایک قصبے اور وہاں موجود ان کرداروں کے گرد گھومتی ہے جن کا تعلق پاکستانی برادری سے ہی ہے۔ کہانی کا اہم حصہ ایک ایسے قتل سے متعلق ہے جو اسی برادری میں غیرت کے نام پر کیا گیا تھا۔

اس انگریزی ناول کا عنوان ’میپس فار لاسٹ لوورز‘ ہے اور اس کا اشارہ ان تمام بچھڑے ہوئے محبوبوں کی طرف ہے جن کو سماج ظالمانہ طریقے سے الگ کردیتا ہے۔

کہانی کے شروع ہی میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جگنو اور چندہ نامی ایک جوڑا لاپتہ ہے اور پولیس کو شبہ ہے کہ دونوں کو چندہ کے بھائیوں نے قتل کردیا ہے۔ دونوں کا جرم یہ تھا کہ وہ شادی کیے بغیر ہی ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے تھے۔

جگنو کے برابر والے گھر میں اس کا بڑا بھائی شمس اور اس کی بھابی کوکب رہتے ہیں۔ جگنو کے یوں لاپتہ ہوجانے سے ان کو بھی اپنی زندگی کے بارے میں فکر لاحق ہوجاتی ہے اور یوں ان کی بھی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔

شمس اور کوکب برسوں سے برطانیہ میں رہتے ہیں لیکن ان کو اپنے دیس کی یاد ہر وقت ستاتی ہے۔ شمس پروگریسو اور کمیونسٹ سوچ رکھتا ہے، اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس غیر ملک میں اپنے لوگوں کے کام آئے اور معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

لیکن کوکب کی سوچ بالکل مختلف ہے اور اپنے ملک سے دور رہ کر اس کو اپنا مذہب اور اس حوالے سے اپنی شناخت ہی سب سے اہم چیز لگتی ہے۔

وہ جہالت میں اپنے بچوں کی زندگیاں تباہ کرتی ہے اور ہر اس چیز کو برا سمجھتی ہے جسے وہ ’غیر اسلامی‘سمجھتی ہے۔

کتاب کے تمام کردار اس شہر کو ’دشت تنہائی‘ سمجھتے ہیں اور اس کا اسی طریقے سے ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ وہ اپنے دیس کو ’سوہنی دھرتی‘ کہتے ہیں۔

اس کہانی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ محض قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے بلکہ یہ ایک پوری برادری کے دکھ کی کہانی ہے۔ یہ اس نئی نسل کی کہانی ہے جو برطانیہ میں پلی بڑھی ہے اور جس کو ہر وقت اپنے والدین کے اعتراضات اور طعنوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ یہ ان والدین کی کہانی ہے جو ایک مغربی معاشرے میں اپنی زندگیاں سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جن کے بچے ان سے دور، بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔

کہانی میں کوئی اچھا یا برا نہیں تصور کیا گیا ہے بلکہ یہ دکھایا گیا ہے کہ سب اپنے اپنے حالات سے مجبور ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی خامی یہ دکھائی گئی ہے کہ تشدد، منافقت اور نفرت کو لوگ مذہب یا روایت کے نام پر برداشت کر لیتے ہیں اور ان کو سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ ’لوگ کیا کہیں گے؟‘

یہ کتاب لکھنے میں چھتیس سالہ ندیم اسلم کو پورے گیارہ برس لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کو لکھنے میں ان کو اپنے تمام اہم کرداروں کو سمجھنے کے لئے ان کی زندگیوں کے بارے میں الگ الگ کہانیاں لکھنی پڑیں۔

’میپس فر لاسٹ لوورز‘ ندیم اسلم کا دوسرا ناول ہے اور برطانیہ کے ادبی حلقوں میں اس کی بہت بڑی پذیرائی کی جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد