BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موتی بازار کی سو سالہ تقریبات

لال حویلی پر لگی یادگاری تختی
19 جون 1926 میں نصب کی گئی اس تختی پر لکھا ہے کہ یہ حویلی رائے زادہ بھولا رام نے اپنی اہلیہ کی یاد میں بنوائی
لال حویلی کے سامنے کچھ ہی فاصلے پر واقع موتی بازار میں داخل ہوتے ہی بڑے بینر اور رنگ برنگی سجاوٹ سے ایک جشن جیسا ماحول نظر آتا ہے۔

تیس اپریل سے پانچ مئی تک جاری رہنے والے اس جشن کے موقع پر بازار میں بے پناہ رش رہا جس میں مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد کئی گنا زیادہ نظر آئی۔

تنگ گلیوں اور چھوٹی دکانوں والے اس بڑے بازار کے نو ذیلی بازار ہیں اور ہر بازار کے تاجروں کی ایک علیحدہ تنظیم ہے۔ تمام نو ذیلی تنظیموں کی ایک مرکزی یونین بھی ہے۔

جیسے ہی میں بازار میں داخل ہوا تو بیج لگائے کارکنوں نے مجھے تاڑ لیا اور تعارف کے بعد مرکزی یونین کے صدر چودھری اقبال احمد کے دفتر چلنے پر اصرار کیا۔ دوکان کے اوپر بنائے ہوئے دفتر میں موصوف کے پاس ذیلی بازاروں کے تاجروں کے نمائندے براجمان تھے اور اس جشن کی کامیابی کے قصے دوہرائے جارہے تھے۔

خاتون خریدار
خواتین کی ایک بڑی تعداد موتی بازار کی شیدائی ہے

چودھری اقبال نے بتایا کہ سن انیس سو ایک میں موتی لال نامی ایک شخص نے اس بازار کی بنیاد رکھی اور پاکستان کے قیام تک یہاں صرف بائیس دکانیں ہی ہوا کرتی تھیں۔ اب ان دکانوں کی تعداد بڑھ کر بارہ سو ہوچکی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سو سالہ جشن تو سن دوہزار ایک میں ہونا چاہیے تھا لیکن راولپنڈی میں آنے والے بدترین سیلاب میں درجنوں ہلاکتوں کے باعث ان تقریبات کو منسوخ کردیا گیا۔ لہزا اب جب لوگ کچھ سنبھلے ہیں تو یہ جشن جشن منعقد کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق روزانہ کم از کم آٹھ ہزار خریدار موتی بازار میں آتے ہیں لیکن ان دنوں یہ تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔ بارہ سو دکانداروں کی روزانہ آمدن کے بارے میں چودھری اقبال نے اصرار کے باوجود، اندازہ لگانے سے بھی گریز کیا شاید انہیں ’ٹیکس‘ والے یاد آئے ہوں۔ لیکن انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ ہر دوکاندار کافی حلال روزی لے کر گھر جاتا ہے۔

بازار کے وسط میں ایک حویلی ہے جس میں اب ایک سکول قائم ہے۔ لیکن اس کا ڈھانچہ اور سرخ اینٹوں والی پرانی ساخت قدیم فن تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔

لال حویلی
موتی بازار کے ساتھ ہی یہ تاریخی لال حویلی واقع ہے

اس حویلی کے بارے میں تاجر تنظیم کی مرکزی یونین کے ترجمان نوید کنول نے بتایا کہ موتی لال نے اس بازار سے قبل یہ حویلی سن اٹھارہ سو تراسی میں تعمیر کروائی اور اسے اپنی بیوی کے نام سے منسوب کرتے ہوئے ’کنیا آشرم‘ کا نام دیا تھا۔

ان کے مطابق ہندو مذہب میں ’ستی‘ کی رسم ہے، جس کے مطابق مرد مرجانے کے بعد خاتون بھی ماری جاتی ہے لیکن جو خواتین ’ستی‘ نہیں بننا چاہتی تھیں انہیں اس ’کنیا آشرم‘ میں رکھ کر انہیں سلائی کڑھائی اور دستکاری کی تربیت دی جاتی تھی۔

’کنیا آشرم‘ کی دیوار پر ہندی زبان میں لکھی تین تختیاں آج بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک پر اس زمانے میں حویلی کی تعمیر کے لیے چندہ دینے والوں کے نام اور رقوم کی تفصیلات لکھی ہیں۔

اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آشرم موتی لال نے دیگر لوگوں کی مدد سے تعمیر کروایا تھا۔ اس حویلی کا لکڑی کا صدر دروازہ آج بھی اتنا پختہ ہے کہ اگر ’لوک ورثہ‘ والوں کی نظر سے بچا رہا تو کئی برسوں تک کارآمد رہے گا۔

پاکستان کے قیام کے بعد ہندو اور سکھ بھارت ہجرت کرگئے لیکن آج بھی ان کے ناموں سے منسوب بازار اور قائم کردہ ادارے موجود ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ’کنیاآشرم‘ اب سکول میں تبدیل ہوگیا ہے۔

موتی بازار کے ساتھ ایک قبرستان ہوا کرتا تھا لیکن اب اس کا کوئی نام نشان نہیں۔ اس شہر خموشاں کے اوپر اب ایک خوبصورت بازار بن چکا ہے۔

حویلی سے نکل کر بازار میں آئیں تو ہر طرف خواتین کا ایک جم غفیر نظر آتا ہے۔ بازار کے اندر ایک چوراہے پر خاصا رش تھا۔ نوید کنول نے بتایا کہ جشن کے سلسلے میں روزانہ ایک سو روپوں کی خریداری پر ایک کوپن دیا جاتا۔

خواتین خریدار
موتی بازار میں اس جشن کے موقع پر رش لگا رہا

خریدار وہ کوپن مختلف جگہوں پر رکھے ڈبوں میں ڈالتے ہیں اور ہر روز رات کو دس بجے لوگوں کی موجودگی میں قرعہ اندازی ہوتی ہے۔

دبئی اور عمرہ کے فضائی ٹکٹ سے لے کر وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی پلیئر، استری، جوسر مشین، طلائی زیورات جیسی قیمتی یا کارآمد اشیاء انعام میں دی جاتی ہیں۔

موتی بازار کے ساتھ جین مت سے منسوب بھابڑا بازار، سکھ فرقے سے منسوب نرنکاری بازار اور ہندؤں کی ایک ذات سے وابسطہ تلواڑاں بازار بھی ہیں اور ان کے نام بھی اب تک جوں کہ توں برقرار ہیں۔

بازاروں کے بیچ دہی بلے اور چاٹ چھولوں اور مشروبات کی بھی کئی دکانیں ہیں۔ جہاں خریدار تھک جانے کے بعد اپنے پسند کی چیزیں کھاکر محظوظ ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد