پاکستان، پائریسی کا گڑھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے رہنے والے عمید ریاض نے انیس سو ترانوے میں جب موسیقی بنانے والی کمپنی ’ای ایم آئی پاکستان‘ کو برطانیہ میں اس کی اصل کمپنی سے خریدا تو انہوں نے سوچا ہوگا کہ وہ پاکستان میں موسیقی کی صنعت پر چھا جائیں گے۔ ’ای ایم آئی پاکستان‘ کے پاس ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گانوں اور دیگر موسیقی کے خصوصی حقوق ہیں اور وہ پاکستان میں موسیقی کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ لیکن صرف دو سالوں میں مسٹر ریاض کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔ مسٹر ریاض کا کہنا ہے ’پاکستان میں ہر چیز کی پائریسی کی جاتی ہے(یعنی نقل بنائی جاتی ہے)۔ سافٹ وئر سے لے کر آڈیو سی ڈیز اور ویڈیو ڈی وی ڈیز تک ہر ایک کی نقلیں پاکستان میں تیار کی جاتی ہیں۔‘ پچھلے پچیس سالوں میں پاکستان میں آڈیو اور وڈیو پائریسی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، یہاں تک کہ پاکستان عالمی سطح پر پائریسی کے حوالے سے بدنام ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پائریسی کی نگراں تنظیموں کے مطابق پائریسی کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر پہلے دس ممالک میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تب تک پائریسی ختم نہیں ہو گی جب تک اس کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی۔ موسیقی کے عالمی ادارے نے اس حوالے سے حال ہی میں پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز کو ایک خط بھیجا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر ڈیڑھ سال میں پاکستان میں جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنانے کی صلاحیت دو گنی ہو رہی ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً بیس کروڑ تیس لاکھ جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنائی جاتی ہیں۔ ان میں سے صرف دو کروڈ پچاس لاکھ ملک میں خریدی جاتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ باقی جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کو بیرون ممالک برامد کیا جاتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق دو ہزار تین میں پاکستان سے ہر ماہ تقریباً ایک کروڑ تین لاکھ جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز چھیالیس ممالک کو برامد کی جا رہی تھیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تب سے ان اعدادوشمار میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ پائریسی کے خلاف عالمی تنظیموں کو امید ہے کہ اس سال جنوری میں لاگو ہونے والے ’ٹرپس‘ نامی ایک بین الاقوامی معاہدے سے شاید صورت حال کچھ بہتر ہو جائے گی۔ پاکستان اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے اور اگر وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو اس پر تجارتی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||