شاہ رُخ نے جنگل کا قانون توڑا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے وائلڈ لائف کی خلاف ورزی کے ایک معاملے میں فلم ’کال‘ کے پروڈیوسر اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیاہے۔ ’کال‘ شاہ رخ خان کے ریڈ چِلیزانٹرٹینمنٹ اور کرن جوہر کے دھرم پروڈکشن کی مشترکہ فلم ہے۔ جمعہ کے روز ریلیز ہوتے ہی یہ فلم تنازعات کا شکار ہوگئی۔ ملک کے ایک معروف وکیل ہریش سالوے نے عدالت عظمٰی سے اپنی عرضی میں شکایت کی تھی کہ کال فلم کی شوٹنگ جم کاربیٹ نیشنل پارک کے اندر محفوظ علاقے میں غیر قانونی طور پر کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق اس کے لیے متعلقہ افسران سےاور نہ ہی مرکزی حکومت سے اجازت طلب کی گئی جو وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ہریش سالوے نے کورٹ سے گزارش کی تھی کی وہ مرکزی حکومت کو اس معاملے میں تفتیش کرنے کی ہدایات جاری کرے۔ عدالت نے سماعت کے بعد فلم کے پرڈیوسر، وفاقی حکومت اور اُترآنچل حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ جم کاربیٹ نیشنل پارک اسی ریاست میں واقع ہے۔ پارک کے افسران کا کہنا ہے کہ فلم میں جو مناظر ہیں وہ جم کاربیٹ پارک کے کم ہیں اور اس میں دوسری جگہ کے شاٹس کو شامل کردیا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر جنگلات نو پربھات نے کہا ہے کہ ’عدالت کی حکم کی تعمیل ہوگی اور اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا ہے تو اسکی تفتیش کی جائیگی‘۔ اس فلم کے ہدایات کار سوہم کرن جوہر کے معاون رہے ہیں۔ انکے ایک بیان کے مطابق فلم کی شوٹنگ میں کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گيا ہے اور اس سلسلے میں متعلق افراد سے اجازت لی گئی تھی۔ کال فلم میں اجئے دیوگن، جان ابراہم، ویویک اوبرائے، ایشا دیول، اور لارا دتہ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ خود شاہ رخ خان نے بھی فلم کےدو گانوں میں حصہ لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||