انڈین گانوں کے حقوق محفوظ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں گزشتہ پینتیس سال سے مقیم ایک فرانسیسی باشندے نے پچیس ہزار انڈین گانوں کے جملہ حقوق خریدے لیے ہیں جس کا ایک مقصد یہ بھی کہ ان گانوں کے لکھنے والے اور موسیقاروں کو رائلٹی ملتی رہے۔ اچلیے فوغلر نے بھارت میں ملک کا پہلا آزاد موسیقی یا پبلشنگ ہاؤس قائم کیا ہے۔ چون سالہ اچیلے فوغلر نے جو بھارت میں فرانسیسی ایمبیسی کے سابق اہلکار ہیں تیس لاکھ ڈالر دے کر ان گانوں کی دھنیں خرید لی ہیں جن میں سہگل ، آر ڈی برمن، جاوید آختر اور انو ملک جیسے ناموار موسیقاروں کی دھنیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ستیاجیت رائے کے دور کی شاہکار فلم ’شترنج کے کھلاڑی‘ اور باسو چٹرجی کی ’راج نگندہا‘ جیسی فلموں کی موسیقی بھی خرید لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سیکم‘ نے جو فرانس میں مصنفوں، موسیقاروں اور پبلشنگ کےاداروں کی نمائندہ تنظیم ہے سن انیسں سو نوے سے پچانوے کے دوران فرانسیسی فلموں میں استعمال ہونے والی بھارتی دھنوں کی رائٹلی کی مد میں چار لاکھ امریکی ڈالر اکھٹے کیے تھے۔ فوغلر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تنظیم کے سامنے اب یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ان دھنوں کی رائلٹی کس کو دی جائے کیونکہ ان میں زیادہ تر دھنیں کسی کے نام سے رجسٹر نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آخر کار اس رقم کو فرانس میں نوجوان موسیقاروں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کو دے دی گئی۔ فوغلز نے کہا کہ بھارتی موسیقاروں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ بیرونی ممالک میں استعمال ہونے والی دھنوں کی وہ کس طرح رائلٹی وصول کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالی وڈ کے ایک بڑے موسیقار جاویداختر نے اپنی صرف تیس فلموں کے جملہ حقوق کے فلم سازوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جبکہ انہوں نے تین سو بیس فلموں کی موسیقی دی ہے۔ فوغلز نے کہا کہ اسرائیل میں بھی انڈین گانے چلائے جاتے ہیں لیکن ان کی رائلٹی کوئی وصول نہیں کر رہا۔ ان کے بقول اسرائیلی ریڈیو، فلموں اور ٹیلی ویژن پر دو ہزار گانے چلائے جا چکے ہیں۔ بھارت کی ایک نتظیم کے مطابق، جو چھتیس سال سے کام کر رہی ہے وہ صرف پانچ فیصد گانوں کی رائلٹی جمع کر پائی ہے۔ دلی میں اپنی کمپنی ’ڈیپ اموشن پبلشنگ‘ کی افتتاحی تقریب کے بعد فوغلر نے بھارت کی مشہور موسیقار شبہا مدگل کو ان کے چار گانوں کی رائلٹی دی جو انہوں نے میرا نائیر کی انیس سو چھانوے کی فلم کاما سوترا میں گائے اور ان کی موسیقی دی تھی۔ فوغلر نے کہا کہ انہوں نے نیویارک میں فلم کے پروڈیوسر کے ساتھ معاہدہ از سر نو طے کیا اور مدگل کے لیے ایک ہزار ڈالر کی رائلٹی حاصل کی۔ انیس سو چھیانوے سے اب تک مدگل اس فلم کے گانوں کے عوض آٹھ ہزار ڈالر کی رائلٹی حاصل کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیادہ تر موسیقاروں کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ فلم سازوں کے ساتھ جو معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں وہ صرف قلیل المعیاد ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||