’اب پاکستان نہیں جاؤں گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور گلوکارہ شبھا مدگل نے پاکستانی ویزا نہ دیے جانے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اب وہ پاکستان نہیں جائیں گی۔ محترمہ مدگل ہندوستانی فنکاروں کےایک وفد کے ساتھ موسیقی و ثقافتی پروگراموں میں شرکت کے لیے پاکستان جانے والی تھیں لیکن ویزا نہ ملنے کے سبب یہ وفد نہیں جا سکا ہے۔ ہندوستان میں جہاں دونوں ملکوں کے درمیان بدلتے رشتوں اور پاکستانی صدر پرویز مشرف کی ہندوستان آمد کے زور و شور سے تذکرے ہیں وہیں گلوکارہ شبھا مدگل کو پاکستانی ویزا نہ ملنے کی خبر بھی سرخیوں میں ہے۔ اس سلسلے میں محترمہ مدگل نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ وہ پاکستان ذاتی پاسپورٹ پر نہیں جارہی تھیں بلکہ ہندوستانی حکومت کے نمائندے کے طور پر پاکستان جانے والی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ’ہمیں بڑی حیرانگی اور افسوس بھی ہے کہ جب دو حکومتوں کے درمیان ویزا ملنے میں اس قدر مشکلات ہیں تو ایک عام آدمی کا حال کیا ہوگا۔ ہمیں بہت برا لگ رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اتنی زیادہ بھائی چارے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن حقیقت تو کچھ اور ہی ہے‘۔ محترمہ مدگل کا کہنا تھا کہ جس پروگرام کے تحت وہ جانے والی تھیں وہ دونوں ملکوں کے تہذیبی وثقافتی اداروں کے جانب سے ہوتا ہے اوراس کے لیے پاکستان کی جانب سے انہیں دعوت بھی ملی تھی۔ انہوں نے کہا:’ اگر کوئی پڑوسی اپنے گھر بلائے اور پھر بغیر کوئی وجہ بتائے اپنا دروازہ بند کردے تو بڑا عجیب سا لگتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ برتاؤ انہیں بالکل پسند نہیں لیکن وہ اپنی جانب سے پاکستان کے لیے مہمان نوازی جاری رکھیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’اب اگر ہمیں دوبارہ ویزا دیا بھی جائے تو میں پاکستان جانا پسند نہیں کرونگی کیونکہ یہ میرا ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کے وقار کا معاملہ ہے‘۔ بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ انہیں اس پورے معاملے پر فیض احمد فیض کا یہ شعر یاد آتا ہے۔ ’ ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنے مداراتوں کے بعد ہندوستانی فنکاروں کا وفد آئی سی سی آر یعنی انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کی جانب سے پاکستان جانے والا تھا اور اسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہی ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ہندوستان پاکستانی فنکاروں کو بہت سی سہولیات فراہم کرتا ہے اور بہت سے فنکار تو کئی شعبوں میں اچھا کام کرہے ہیں لیکن آخر پاکستان ہندوستانی فنکاروں کو اپنے ملک میں آزادانہ طور پر کیوں نہیں جانے دیتا۔ حال ہی میں کئی فنکاروں نے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے کہ آخر یہ دوہرا معیار کیسا ہے کہ پاکستان کے فنکار کے لیے ہندوستان میں اتنی آزادی ہے اور انہیں وہاں جانے بھی نہیں دیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||