BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈو پاک فلمی صنعت کا اشتراک

ایف سی سی آئی
ایف سی سی آئی کے زیراہتمام دونوں ملکوں کے تفریح فراہم کرنے والے اداروں کے اجلاس میں پاکستان کے میر شکیل الرحمٰن، یش چوپڑا ، انفسس کے چیف ایگزیکٹیونرائن مورتی اور ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے امّد کھنہ
ہندوستان اور پاکستان کے فلمسازوں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے فنکار اور تخلیق کار ایک ساتھ مل کر کام کریں تو خطے میں فلمی صنعت کو فروغ ملے گا۔ تفریحی شعبے کے بڑی ہستیوں کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے فنکاروں کے مشترکہ تعاون سے پاکستانی فلمی صنعت کافی آگے بڑھ سکتی ہے۔

ممبئی میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس کے زیر اہتمام فلمی صنعت کے فروغ کیلیے منعقدہ اجلاس میں تقریباً بیس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ ’فریمز‘ نامی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں میڈیا کی بعض نمایاں شخصیات بھی ممبئی پہنچی تھیں۔ سبھی کا خیال تھا کہ فلمی صنعت میں بالی وڈ ایک خاص مقام حاصل کر چکا ہے اور اس کے تجربات سے پاکستان مستقید ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں بحث ومباحثے کے دوران پاکستانی سنسنر بورڈ کے چیئرمین ضیاءالدین نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان کو پاکستانی فنکاروں کے لیے تربیت کی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طلبہ اگر پونے جیسے فلم انسٹی ٹیوٹ میں تربیت پائيں اور فلم کے کورسز کریں تو پاکستان بھی ہندوستان کے معیار کی فلمیں بنا سکتا ہے۔

پاکستانی ٹی وی چینل ’جیو‘ کے مینیجنگ ڈائریکٹر یوسف مرزا کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو صرف دل ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کیلئے تجارت کے دروازے بھی کھولنے چاہئيں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر تک جیو ٹی وی بھارت میں بھی شروع ہو جائےگا اور کئی ایسے ٹی وی سیریل بنائے گا جن میں دونوں ممالک کے فنکار ایک ساتھ کام کرینگے۔ ان کے مطابق یہ تجارتی نکتہ نظر سے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

ضیاءالدین کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلمیں اگر ہندوستان میں دکھائی جائيں تو ہندوستانی فلموں کی نمائش پاکستان میں بھی ہو سکتی ہے اور اس طرح یہ تعطل دور ہو سکتا ہے۔ اس تجویز پر راج شری پروڈکشن کے کمل بڑجاتیہ نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں پاکستانی فلموں کے ڈسٹری بیوشن کے لیے تیار ہیں۔

اس اجلاس سے جنگ گروپ کے چیرمین شکیل الرحمن نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک کی تفریحی صنعت مشترکہ طور پر کام کرے تو اس کا فائدہ دونوں کو ہو گا۔

لارا دتہ، امیتابھ
ایف سی سی آئی کی اجلاس میں لارا دتہ اور امیتابھ بچن

مسٹر رحمن نے شاہ رخ اور یش چوپڑہ کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں ایسے پارک و مناظر تیار کرنے کی کوشش کررہے ہيں جہاں ہندوستانی فلم ساز شوٹنگ کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلموں ہی سے سیاسی مخالفت کو کچلا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کی فلمی صنعت ملک کی اقتصادیات کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے لیکن فلموں کی پائریسی ایک اہم مسئلہ ہے ایک انداز ے کے مطابق بالی ووڈ کو پائریسی کے سبب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ اکثر ماہرین نے اس مسئلے پر تشویش ظاہر کی اور اس کی روک تھام کے لیےحکومت سےمؤثر اقدامات کرنےکو کہا ہے۔

فلمی صنعت کے فروغ کے لیے ممبئی میں بھارت کی فیڈریشن آف چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، (ایف سی سی آئی) فکّی کا یہ آٹھواں اجلاس تھاجس سے لالی وڈ اور بالی وڈ کی کئی نامی گرامی شخصیات نے خطاب کیا۔ اس کی افتتاحی تقریب میں امیتابھ بچن ، لارا دتہ ، یش چوپڑا ، اطلاعات و نشریات کے وزیر جے پال ریڈی اور ہالی وڈ کی معروف بیری اوزبون نے شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد