BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 December, 2004, 18:18 GMT 23:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارا فلمی میلے میں کون جیتا
میلے کے ڈائریکٹر حسن زیدی اوم پوری کے ہمراہ
میلے کے ڈائریکٹر حسن زیدی اوم پوری کے ہمراہ
گرل ود اے پرل ایئررنگ‘ نے چوتھا کارا فلم میلہ لوٹ لیا۔ اس فلم کو بہترین فلم، بہترین اداکارہ، بہترین سکرین پلے اور بہترین سینماٹوگرافی کا ایوارڈ دیا گیا۔

اس سال میلے میں شریک ہونے والی مشہور فلمی شخصیات میں جہاں انڈیا سے پوجا بھٹ، مہیش بھٹ، اوم پوری، عرفان خان، راکیش شرما اور ونتا نندا شامل تھے وہاں ایرانی ہدایت کارہ رخشنبانی اعتماد بھی موجود تھیں۔

رخشنبانی اعتماد کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہاں ایسا لگا جیسے میں اپنے ہی دیس میں ہوں۔‘

دوسرے نمبر پرانڈین فلم ’رگھو رومیو‘ رہی جس کے لئے بہترین سپورٹنگ اداکار کا ایوراڈ سعدیہ صدیقی، بہترین اداکار کا ایوارڈ وجے راز اور بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ رجت کپور کو دیا گیا۔

جرمن فلم ’گڈبائی لینن‘ نے دو ایوارڈ جیتے جبکہ سٹیون سپیل برگ کی فلم ’دی ٹرمینل‘ نے ایک ایوارڈ جیتا۔ بہترین دستاویزی فلم کا ایورڈ روسی فلم میکر آندریئی نیسکروو کی فلم ’ڈس بیلیف‘ کو دیا گیا۔

ایوارڈ کی تقریب کی کمپیئرنگ فلم اور ٹی وی کے اداکار فیصل قریشی اور اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے کی۔ مہمانوں میں طلعت حسین، معمر رانا اور ارشد محمود بھی شامل تھے۔ مشہور اداکار کمال احمد رضوی کو تھیئٹر اور ٹیلی ویژن اور مہدی حسن کو موسیقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دیئے گیا۔

بہترین اداکارہ کا ایوارڈ سکارلیٹ جانسن کو ملا۔
بہترین اداکارہ کا ایوارڈ سکارلیٹ جانسن کو ملا۔

کمال احمد رضوی نے کارا فلمی میلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ثقافتی طور پر ایک بنجر زمین میں نخلستان سے تشبیہہ دی۔ انہوں نے کہا کہ ’ جو بھی ہماری ثقافتی پیس بجھانے کے لیے کچھ کرتا ہے اس کی تعریف کرنی چاہیے لیکن جو کچھ ان نوجوانوں نے کردکھایا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے‘۔

بارہ دسمبر کو اپنے اختتام پر پہنچنے والے چوتھے کارا فلم میلے کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوہزار ایک میں جب یہ میلہ شروع ہوا تھا تو صرف تین دن کے لیے تھا اور صرف چار سال میں یہ میلہ بارہ دن تک آ پہنچا ہے۔

اس سال کے میلے اٹھارہ ممالک سے سو سے زیادہ فلمیں شامل کی گئیں۔ عرفان خان اور ونتا نندا کی فلموں ’روگ‘ اور ’وائٹ نوائز‘ کی پہلی نمائش بھی اسی فلمی میلے میں کی گئی۔ ان میں بہت سی فلمیں ایسی بھی شامل تھیں جن کی ایشیا اور پاکستان میں پہلی بار نمائش کی گئی تھی۔

ان فلموں کا انتخاب اب اسلام آباد اور لاہور کے ٹؤر پر جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد