بالی وڈ: پرانی فلمیں رنگین ہونگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ بالی وڈ کی پرانی فلموں کے شوقین ہیں تو آپ کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ یہ فلمیں ایک بار پھر سینیما گھروں میں دکھائی جانے والی ہیں، مگر اس بار یہ رنگین ہونگی۔ بھارت کے مغربی شہر ممبئی میں فلم ساز پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کو رنگین بنانے کے کام میں جٹے ہوئے ہیں۔ اس عمل سے گزرنے والی پہلی فلموں میں 1957 میں بنی ’نیا دور‘ اور 1960 میں بنی ’مغل اعظم‘ شامل ہیں۔ دونوں فلموں میں مقبول فلم اداکار دلیپ کمار نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ ان فلموں کو رنگین بنانے کی کوشش ’بی آر فلمز‘ نامی کمپنی کر رہی ہے۔ کمپنی کے پروڈیوسر روی چوپڑا کا کہنا ہے کہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں میں نئی نسل کی دلچسپی کم ہے اور اس عمل کے ذریعے وہ ان فلموں کو ایک نئی زندگی دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان فلموں کے بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹوز پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’مغل اعظم‘ بالی وڈ کی کامیاب ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس فلم کو رنگین بنانے کے علاوہ ممبئی میں مقیم فلم کمپنی ’سٹرلنگ‘ فلم کی موسیقی کو بھی نئی تکنیک کے مطابق ریکارڈ کر رہی ہے۔ اس میں فلم کے موسیقار 85 سالہ نوشاد بھی مدد کر رہے ہیں۔ ان دو فلموں کے علاوہ روی چوپڑا چھ اور فلموں کو رنگین بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس کام میں ایک امریکی کمپنی ان کی مدد کرےگی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ رنگین ’نیا دور‘ اگلے سال جنوری میں سینیما گھروں میں دکھائی جائےگی۔ اس کے بعد ’مغل اعظم‘ منظر عام پر آئےگی۔ ایک بالی وڈ ٹریڈ میگزین کے ایڈیٹر وکاس موہن کا کہنا ہے کہ پرانی فلموں کو رنگین بنانا بالی وڈ میں ایک نیا کاروبار بن سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پرانے فلمی گانوں کی حالیہ کامیابی کی وجہ سے ہی فلم ساز پرانی فلموں پر توجہ دے رہے ہیں۔ بالی وڈ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہے جہاں ایک سال میں تقریباً ایک ہزار فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||