BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 April, 2004, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی ووڈ کی فلمیں نئی راہوں پر

بالی ووڈ
فلم انڈسٹری کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے
ہالی ووڈ کے بعد بالی ووڈ دنیا کا بڑا فلمی تجارتی مرکز ہے جو فی الوقت زمانے اور وقت کے ساتھ تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

ہالی ووڈ ہی کی طرح بالی ووڈ نے بھی جدید ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی ہے جس کی وجہ سے تکنیکی لحاظ سے فلموں کا معیار بلند ہوا ہے۔گرافکس، ڈیجیٹل ساؤنڈ اور کمپیوٹر کی مدد سے خصوصی تاثرات تقریبًا سبھی فلموں کا خاصہ بن چکے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی بالی ووڈ فلم انڈسٹری کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے جس کی وجہ سے اس صنعت کی تجارت میں قدرے کمی آئی ہے۔ شاید اسی وجہ سے بالی ووڈ جدید ذرائع کے ساتھ نئے طریقوں کو اپنانے کی کوشش میں ہے۔ اسی کوشش میں فلم انڈسٹری میں فلموں کی کہانی، اسکرپٹ اور اس کو پیش کرنے کے جدید رجحانات بھی پنپ رہے ہیں۔

ہندی فلموں میں پہلے جہاں گیت ،موسیقی ،خوبصورت مناظر اور دیگر جمالیاتی پہلو سیدھی سادھی کہانی کے اہم ترکیبی اجزاء ہوتے تھے تو وہیں اب جسم کی نمائش اور عریاں مناظر نئی فلموں کے ضروری جز بنتے جارہے ہیں۔ پہلے ہی کی طرح آج کل بھی فلموں کی کہانی پیار و محبت پر ہی مبنی ہوتی ہے لیکن ان سب میں بلاواستہ یا بالواستہ طور پر نفسانی خواہشات، ناجائز جسمانی تعلقات اور سیکس کا عنصر غالب رہتا ہے۔

بالی ووڈ
ہالی ووڈ ہی کی طرح بالی ووڈ نے بھی جدید ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی ہے

گزشتہ سال جسم اور خواہش جیسی فلمیں انہیں موضوعات پر مبنی تھیں۔ فلم خواہش میں بڑی بے باکی کے ساتھ بارہ مرتبہ بوس وکنار کے مناظر پیش کئے گئے تھے۔اس فلم کی اداکارہ ملکا شیراوت کو ابھی تک ان بوسوں کےجواز کی دلیل میں میڈیا کے سامنے صفا ئی پیش کرنی پڑ رہی ہے۔ تاہم فلم خواہش نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔

بالی ووڈ کی فلموں میں ایسے مناظر کا رجحان مزید پھل پھول رہا ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلمیں ہوِس اور ’مرڈر‘ وغیرہ میں تو ہدایت کاروں نے مزید دو قدم آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔

ویسے تو بالی ووڈ میں ابتداء سے ہی ہالی ووڈ کو کاپی کرنے کا رواج رہا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے اب ہدایت کار صرف کہانی ہی نہیں چراتے بلکہ انہیں کے طرز پر فلم شوٹ کرکے ایڈٹ بھی کر نے لگے ہیں۔

ہندی فلموں میں پہلے جو کچھ اشاروں کنایوں میں زیادہ ہوتا تھا، اب کھلے عام ہونے لگا ہے۔

دانشوروں اور سماجی کارکنان کے ایک طبقے نے اس طرح کی فلموں پر کئی بار اعتراضات بھی کئے ہیں۔ فلم میں عریانیت، نا شائستگی اور اس کے گرتے معیار پر میڈیا میں بحث بھی ہوتی رہی ہے لیکن تھیٹر میں ناظرین کی بھیڑ دیکھ کر یہی نتائج اخذ کئے گئے ہیں کہ عوام کو یہ سب کچھ پسند ہے۔

بالی ووڈ
انسانی رشتوں اور جذبات پر مبنی فلمیں اب بھی زیادہ مقبول ہیں

ممبئی فلم نگری میں اس طرح کی فلموں کے ہدایت کار، اداکاروں اور اداکاراؤں کی بھی ایک نئی پود اگ رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس نئی پود میں بھی ایک طرح کی مسابقہ آرائی جاری ہے کہ آخر اس میدان میں سبقت کون حاصل کرےگا۔

فلم جسم کے بعد اداکارہ بپاسا باسو سبھی کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں جنہیں بولڈ اور بیوٹی فل کے نام سے جانا جانے لگا مگر بعد میں اداکارہ ملکا شیراوت نے اپنی پہلی ہی فلم خواہش میں اداکاری کے وہ جوہر دکھائے کہ وہ جواں دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔ شیراوت نے اپنے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’ہمارے پاس خوبصورت جسم ہے تو اس کی نمائش کیوں نہ کریں‘۔ اپنی دوسری فلم مرڈر میں ملکا شیراوت نےخواہش سے بھی ذرا آگے جانے کی کوشش کی ہے جو فی الوقت پورے ملک میں اچھا بزنس کر رہی ہے۔

حال ہی میں ایک اور ریلیز ہونے والی فلم ہوِس کی اداکارہ میگھنا نائيڈو کہتی ہیں کی اگر فلم میں جسم کی نمائش کی ضرورت ہو تو انہیں ایکسپوز کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میگھنا نے اپنی پہلی ہی فلم میں اسکا ثبوت بھی دے دیا ہے۔

بالی ووڈ
اب جسم کی نمائش اور عریاں مناظر نئی فلموں کے ضروری جز بنتے جارہے ہیں

ایک اور نئی اداکارہ جانکی شاہ نے اپنے ڈائریکٹر ونود چھابرا کی فلم شق کے لئے ٹاپ لیس شاٹ دیے ہیں جس پر ونود اور جانکی کے درمیان اس بات پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کہ اس منظر کو جوں کا توں استعمال کیا جائے یا نہیں۔

بقول جانکی انہوں نے چولی اس شرط پر اتار دی تھی کہ فلم کے پوسٹ پروڈکشن کے وقت شاٹس ایڈٹ کر دیے جائیں گے تاہم ہدایت کار ونود چھابرا کا کہنا ہے کہ جانکی کے ساتھ ٹاپ لیس شاٹ ہی کا معاہدہ تھا۔

بعض فلم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا تنازعہ جان بوجھ صرف فلم کی تشہیر کے لیے کھڑا کیا جاتا ہے۔

مقصد کچھ بھی ہو بالی ووڈ میں نئی نسل کے اداکار اور اداکارائیں اپنے پیر جمانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

اس سلسلے میں کئی اداکارائیں ملکا شیراوت،سلینا جیٹلی،میگھنا نائيڈو اور کترینہ کیف صف اول میں کھڑی ہیں جو ملک کے جواں دلوں کی دھڑکن بن چکی ہیں۔

ہدایت کار کرن رازدان کہتے ہیں کہ ،وہ دن ہوا ہوئے جب جسم کی نمائش کو عیب سمجھا جاتا تھا۔ ناظرین بھی زمانے کے ساتھ بدل رہے ہیں اور انہیں کی پسند کو مدنظررکھتے ہوئے فلمیں بنائی جاتی ہیں۔

یہ سچ ہے کہ ناظرین بھی اس طرح کی فلمیں پسند کر رہے ہیں لیکن سیدھی سادھی کہانی پر مبنی فلمیں جن میں انسانی رشتوں اور جذبات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہووہ اب بھی زیادہ مقبول ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد