بالی ووڈ میں سیکوئلز کا رجحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منّا بھائی کی جادو کی جپھی اور بمبئیا ہندی نے انہیں ہندوستان کا سب سے مقبول ڈاکٹر بنا دیا ہے اور اب وہ چلے ہیں مہاتما گاندھی سے ملنے۔ فلم ’منّا بھائی ایم بی بی ایس ‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر ودھو ونود چوپڑا نے اس کی دوسری قسط’ منّا بھائی ایم ایم جی‘ بنانے کا ارادہ کیا ہے۔ اس نئی فلم میں ’منّا بھائی‘ اور ’سرکٹ‘ کے کردار بالترتیب سنجے دت اور ارشد وارثی ہی نبھائیں گے البتہ فلم کی بقیہ کاسٹ نئی ہو گی۔ ودھو ونود چوپڑا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ آپ کو دراصل مجھ سے یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ اس کا سیکوئل بنانے میں اتنی دیر کیوں لگی۔ میں نے پہلے منّا بھائی ایل ایل بی کی کہانی لکھی تھی مگر لکھنے کے بعد وہ مجھے ٹھیک نہیں لگی۔ میں ایک اور فلم بھی لکھ رہا تھا جو مہاتما گاندھی پر تھی اور اس کا منّا بھائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لکھتے لکھتے ایک دن ایسا لگا کہ میں نے جو فلم لکھی ہے اور جو منّا بھائی کا کردار ہے ، ان دونوں کو ملایا جائے تو کیا ہو؟ اور بس بن گئی ’منّا بھائی مِیٹس مہاتما گاندھی‘۔ ایسا کوئی سیکوئل بنانے کا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ تو بنتے بنتے ایسا ہوا کہ بن گئی‘۔
منّا بھائی کے علاوہ کئی اور کامیاب فلموں کی سیکوئلز پر کام چل رہا ہے جیسے دھوم کا سیکوئل دھوم 2، کوئی مل گیا کی دوسری قسط کرش اور ہیرا پھیری کی پھر ہیرا پھیری۔ بالی ووڈ میں فلموں کے سیکوئلز ایک نیا رجحان ہے کیونکہ عام طور پر یہاں فلموں کی دوسری اقساط بنانے کا رواج نہیں ہے اور جو سیکوئلز بنائے بھی گئے ہیں وہ بری طرح ناکام ہوئی ہیں جیسے واستو جیسی کامیاب فلم کا سیکوئل ہتھیار بالکل ناکام رہا۔ تاہم دھوم اور دھوم 2 کے ہدایتکار سنجے گادھوی کا کہنا ہے کہ اب ناظرین سیکوئل کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہندی سینما ایک بہت ہی دلچسپ دور سے گزر رہا ہے جہاں ناظرین نئی چیز دیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ میرے خیال مںی سیکوئلز کا وقت آ گیا ہے نہیں تو یش راج فلمز، فلم کرافٹ اور ودھو ونود چوپڑا پروڈکشنز جیسے بڑے بڑے بینر ایک ساتھ ان پراتنا پیسہ کیوں لگاتے؟‘
فلمی تنقید نگار راجیو مسند کا اس بارے میں کہنا ہے کہ سیکوئل بناتے ہوئے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے کیونکہ جب پہلی فلم کی پسندیدگی کے بعد لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے فلم کو زیادہ مضبوط کہانی اور بہتر’ کانسپٹ‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ دوسری فلم کو صرف اس لیے پسند نہیں کریں گے کہ انہیں پہلی فلم اچھی لگی تھی۔ لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے فلموں کے سیکوئل بنانے والے تمام فلمساز کچھ زیادہ بڑا اور کچھ زیادہ دلچسپ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سنجےگادھوی نے دھوم 2 میں ابھیشیک بچن اور اودے چوپڑہ کے ساتھ ریتھک روشن اور بپاشا باسو کو بھی اپنی فلم میں کاسٹ کیا ہے۔ اس فلم میں پہلی بار ریتھک روشن ایک منفی کردار ادا کریں گے۔
ودھو ونود چوپڑا کا کہنا ہے کہ ’ منّا بھائی ایم ایم جی‘ کی کہانی ’منّا بھائی ایم بی بی ایس ‘ سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ جبکہ کوئی مل گیا کے ہدایتکار راکیش روشن کا کہنا ہے کہ ’کرش‘ میں ریتھک روشن ایک ایسا کردار ادا کر رہے ہیں جو آج تک بالی ووڈ میں نہیں دیکھا گیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ریتھک کا کردار ان کی پچھلی فلم کوئی مل گیا کے بالکل الٹ ہے۔ پچھلی فلم میں وہ جتنا کمزور تھا اس میں وہ اتنا ہی طاقتور ہے۔ سپرمین تو نہیں مگر کچھ ویسا ہی ہے‘۔ سیکوئلز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اب بولی ووڈ بھی ہالی ووڈ کے نقشِ قدم پر چل پڑا ہے اور ہو سکتا ہے کہ دوسری قسط کی کامیابی کے بعد دھوم اور منّا بھائی 5، 4، 3 بھی بنیں۔ آخر ’جیمز بانڈ‘ اور ’راکی‘ اس بات کےگواہ ہیں کہ کچھ کرداروں کو ناظرین کبھی الوداع نہیں کہتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||