BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 March, 2005, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چاند بجھ گیا‘ نمائش کے لیے تیار

News image
سنسر بورڈ نے فلم کی نمائش پر پابندی لگادی تھی لیکن ممبئی ہائی نے ریلیز کی اجازت دے دی
گودھرا ٹرین سانحہ اور اس کے بعد گجرات فسادات پر مبنی فلم ’چاند بجھ گیا‘ 11 مارچ کو ممبئی کے کئی سنیما گھروں میں نمائش کے لئے تیار ہے ۔ ’دل ہے کہ مانتا نہیں‘ کے مقبول اور جذباتی نغموں کے خالق فائز انور نے فلمسازی کی دنیا میں اپنی فلم ’چاند بجھ گیا‘ کے ساتھ پہلا قدم رکھا ہے ۔

بی بی سی سے ایک خصوصی ملاقات میں فائز نے بتایا کہ ’پہلی فلم کے لئے ایک متنازعہ موضوع کا انتخاب مشکل تھا لیکن کیا کرتا اخبارات میں مسلم مذہبی فسادات ، وحشت و بر بر یت کی خبروں نے مجھے اندر تک ہلا دیا تھا ۔ بس اس لمحہ میں خیال آیا کہ اگر ہم سسٹم کو بدل نہیں سکتے تو کم از کم فلم کے ذریعے لوگوں تک انسانیت کا پیغام تو پہنچا سکتے ہیں۔‘

’مہیش بھٹ میرے خیر خواہوں میں سے ایک ہیں جب ان سے تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا میاں یہ ایک نازک موضوع ہے اور تم مسلمان ہو آگے بہت سی مشکلات آسکتی ہیں اس لئے فلم بنانے کا خیال چھوڑ دو لیکن میں نہیں مانا۔‘

فلم کے مرکزی کردار ثوبین ( ہیروئین شمع سکندر ) اور ہیرو راہل (فیصل خان) ہیں۔ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ راہل کو ثوبین سے پیار ہو جاتا ہے لیکن ہیروئین یہ کہتے ہوئے انکار کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے مذہب الگ ہیں اور لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اس فلم میں نریندر مودی کے کردار کے لئے پرتاب سنگھ کو لیا گیا ہے۔

News image
فلم کے مرکزی کردارہیرو فیصل خان نے ادا کیا ہے
فائز کے مطابق گودھرا ٹرین میں آگ لگانے کا منظر فلمانے کے دوران انہیں کافی غور کرنا پڑا۔ انہوں نے اس منظر کو ڈرامائی انداز میں فلمایا اور باہر سے آگ لگانے والے شر پسندوں کے منہ ڈھانپ دیئے تاکہ یہ پتہ نہ چل سکے کہ آگ کس فرقے کے لوگوں نے لگائی ہے۔

فلم کی شوٹنگ گجرات کے ان تمام علاقوں میں ہوئی جہاں بھیانک فسادات ہوئے تھے۔ فائز نے احتیاط برتتے ہوئے راہل کو ہندوؤں اور ثوبین کو مسلمانوں کے ہاتھوں ہی مروایا۔

فلم بننے کے بعد اسے سنسر بورڈ سے پاس کرنا ایک مسئلہ تھا۔ سنسر بورڈ نے فلم کی نمائش پر پابندی لگادی۔ فائز ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔ ٹریبونل نے نریندر مودی کے کردار پر اعتراض کیا اور کہا کہ فلم میں تشدد بہت ہے ا س لئے 7 ریل کاٹ دی جائے۔ فائز مطمعئن نہیں ہوئے اور انہوں نے ممبئی ہائی کورٹ کے سامنے کیس پیش کیا۔

ممبئی کے ایروذ تھیٹر میں اسکا خصوصی شو منعقد کیا گیا اور جسٹس چند چوڈ اور بھنڈاری کی ڈویژن بینچ نے فلم دیکھنے کے بعد فلم کو جوں کا توں ریلیز کرنے کا حکم دیا ۔

فلم 11 مارچ کو نمائش کے لئے تیار ہے لیکن فائز کے لئے ایک پریشانی ہے۔ انہوں نے اس پہلی رپورٹ پر فلم بنائی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ ٹرین کو باہر سے آگ لگائی گئی تھی جبکہ اب جسٹس بینرجی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرین میں آگ اندر سے ہی لگی تھی ۔

بہر حال فلم ایک انتہائی حساس موضوع پر مبنی ہے جسے نمائش کی اجازت مل گئی ہے لیکن اس نوعیت کی ایک دوسری فلم ’بلیک فرائی ڈے‘ کی نمائش ہوگی یہ نہیں اس کا فیصلہ اب 7 مارچ کو ہوگا۔ یہ فلم ممبئی کے 1993 کے بم دھماکوں پر مبنی ہے۔

اس سے قبل گجرات فسادات پر راکیش شرما کی فلم ’فائنل سلیوشن‘ بنی تھی جسے سنسر بورڈ نے نامنظور کر دیا تھا اور جسے ’لوکا رنو‘ فلم فسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد