’چاند بجھ گیا‘ نمائش کے لیے تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گودھرا ٹرین سانحہ اور اس کے بعد گجرات فسادات پر مبنی فلم ’چاند بجھ گیا‘ 11 مارچ کو ممبئی کے کئی سنیما گھروں میں نمائش کے لئے تیار ہے ۔ ’دل ہے کہ مانتا نہیں‘ کے مقبول اور جذباتی نغموں کے خالق فائز انور نے فلمسازی کی دنیا میں اپنی فلم ’چاند بجھ گیا‘ کے ساتھ پہلا قدم رکھا ہے ۔ بی بی سی سے ایک خصوصی ملاقات میں فائز نے بتایا کہ ’پہلی فلم کے لئے ایک متنازعہ موضوع کا انتخاب مشکل تھا لیکن کیا کرتا اخبارات میں مسلم مذہبی فسادات ، وحشت و بر بر یت کی خبروں نے مجھے اندر تک ہلا دیا تھا ۔ بس اس لمحہ میں خیال آیا کہ اگر ہم سسٹم کو بدل نہیں سکتے تو کم از کم فلم کے ذریعے لوگوں تک انسانیت کا پیغام تو پہنچا سکتے ہیں۔‘ ’مہیش بھٹ میرے خیر خواہوں میں سے ایک ہیں جب ان سے تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا میاں یہ ایک نازک موضوع ہے اور تم مسلمان ہو آگے بہت سی مشکلات آسکتی ہیں اس لئے فلم بنانے کا خیال چھوڑ دو لیکن میں نہیں مانا۔‘ فلم کے مرکزی کردار ثوبین ( ہیروئین شمع سکندر ) اور ہیرو راہل (فیصل خان) ہیں۔ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ راہل کو ثوبین سے پیار ہو جاتا ہے لیکن ہیروئین یہ کہتے ہوئے انکار کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے مذہب الگ ہیں اور لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اس فلم میں نریندر مودی کے کردار کے لئے پرتاب سنگھ کو لیا گیا ہے۔
فلم کی شوٹنگ گجرات کے ان تمام علاقوں میں ہوئی جہاں بھیانک فسادات ہوئے تھے۔ فائز نے احتیاط برتتے ہوئے راہل کو ہندوؤں اور ثوبین کو مسلمانوں کے ہاتھوں ہی مروایا۔ فلم بننے کے بعد اسے سنسر بورڈ سے پاس کرنا ایک مسئلہ تھا۔ سنسر بورڈ نے فلم کی نمائش پر پابندی لگادی۔ فائز ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔ ٹریبونل نے نریندر مودی کے کردار پر اعتراض کیا اور کہا کہ فلم میں تشدد بہت ہے ا س لئے 7 ریل کاٹ دی جائے۔ فائز مطمعئن نہیں ہوئے اور انہوں نے ممبئی ہائی کورٹ کے سامنے کیس پیش کیا۔ ممبئی کے ایروذ تھیٹر میں اسکا خصوصی شو منعقد کیا گیا اور جسٹس چند چوڈ اور بھنڈاری کی ڈویژن بینچ نے فلم دیکھنے کے بعد فلم کو جوں کا توں ریلیز کرنے کا حکم دیا ۔ فلم 11 مارچ کو نمائش کے لئے تیار ہے لیکن فائز کے لئے ایک پریشانی ہے۔ انہوں نے اس پہلی رپورٹ پر فلم بنائی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ ٹرین کو باہر سے آگ لگائی گئی تھی جبکہ اب جسٹس بینرجی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرین میں آگ اندر سے ہی لگی تھی ۔ بہر حال فلم ایک انتہائی حساس موضوع پر مبنی ہے جسے نمائش کی اجازت مل گئی ہے لیکن اس نوعیت کی ایک دوسری فلم ’بلیک فرائی ڈے‘ کی نمائش ہوگی یہ نہیں اس کا فیصلہ اب 7 مارچ کو ہوگا۔ یہ فلم ممبئی کے 1993 کے بم دھماکوں پر مبنی ہے۔ اس سے قبل گجرات فسادات پر راکیش شرما کی فلم ’فائنل سلیوشن‘ بنی تھی جسے سنسر بورڈ نے نامنظور کر دیا تھا اور جسے ’لوکا رنو‘ فلم فسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||