میں سازش کا شکار ہوئی ہوں: میرا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اداکارہ ’میرا‘ اس وقت شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ ان کی پہلی بھارتی فلم ’ نظر‘ کے چند مناظر نے ان کے لیے پریشانیاں پیدا کر دی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں فون پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اور ایک تنظیم نے انہیں پاکستان آنے سے منع بھی کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میرا نے فلم کے ان مناظر کے بارے میں کہا کہ انہوں نے فلم میں کوئی فحش سین نہیں کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ بلاوجہ جان بوجھ کر فلم میں ٹھونسے گئے فحش مناظر کو عریانیت کہتے ہیں لیکن اگر سین کا مطالبہ ہو اور اس سین سے کہانی کی عکاسی ہوتی ہو تو اسے فحش نہیں کہا جا سکتا‘۔ اس سلسلے میں میرا نے فلم’اعتراض‘ کی مثال دی جس میں پریانکا چوپڑہ اور اکشے کمار کے چند قابلِ اعتراض مناظر اور مکالمے ہیں۔ میرا کا کہنا تھا کہ وہ مکالمے اور مناظر کہانی کا اہم حصہ ہیں اس لیے اسے فحش نہیں کہا جا سکتا۔ میرا نے الزام لگایا کہ اب تک فلم کسی نے دیکھی تک نہیں ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ پہلے ہی شروع ہو گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ان کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کے مخالفین کا کام ہے جو انہیں مقبول ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میں دونوں ممالک کے لوگوں کا احترام کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ اس سازش کو بے نقاب کیا جائے اور جو کوئی بھی اس کے پیچھے ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
میرا کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و ثقافت سے مل کر اس معاملے کو سلجھائیں گی۔ میرا کی یہ متنازعہ فلم آئندہ ماہ نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ میرا مزید بھارتی فلموں میں کام کرنے کی بھی خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اچھی اور صاف ستھری فلموں میں کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ لاہور سےصحافی سیف اللہ کے مطابق پاکستان کی وزارت ثقافت نے پاکستانی اداکارہ میرا کی بھارتی اداکار اشمیت پاٹیل کے ساتھ تصاویر کے بارے میں رپورٹ مرکزی فلم سنسر بورڈ سے طلب کر لی ہے۔ وفاقی وزیر ثقافت اجمل خان کے پی آر او زبیداللہ نے بتایا ہے کہ وزیرِ ثقافت نے میرا کے بارے میں رپورٹ چیئرمین مرکزی فلم سنسر بورڈ سے طلب کر لی ہے۔ اس رپورٹ کے ملنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ میرا کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک نہ تو میرا کو جرمانہ کیا گیا ہے اور نہ کوئی اور سزا دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ وزارت ثقافت بھارتی فلموں میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پر پابندی کے بارے میں سوچ رہی ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||