مغلِ اعظم کے بعد دل اپنا پریت پرائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخی فلم مغل اعظم کو مکمل طور پر رنگین بنانے کی کامیابی کے بعد اب کامیاب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کو رنگین بنانے کا دور شروع ہو چکا ہے اور کمال امروہی کی کامیاب فلم ’دل اپنا اور پریت پرائی‘ کو رنگین بنانے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ ’ٹریجڈی کوئین‘ کے نام سے مشہور مینا کماری کی فلم ’دل اپنا اور پریت پرائی‘ انیس سو ساٹھ میں ریلیز ہوئی تھی۔اس فلم میں ان کے ہیرو راج کمار تھے۔فلم میں مینا نے نرس کا کردار نبھایا تھا اور ان کے سامنے ویمپ کا رول نادرہ کا تھا۔ بولی ووڈ کی جذباتی اداکارہ مینا کماری جنہوں نے اپنے دور کی فلموں میں ایک مشرقی عورت کے کردار کو بہت ہی اچھے اور یادگار انداز میں نبھایا آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس فلم کو رنگین بنانے کا کام ’ اے ایچ بی انٹر پرائز‘ کر رہا ہے لیکن اسے رنگین بنانے کے لیے ماہرین آسٹریلیا سے آرہے ہیں۔ ممبئی کے فیمس اسٹوڈیو میں یہ کام شروع ہوگا اور آسٹریلیا کے ماہرین کے ساتھ پرزم پکسل (prism pixel ) کا عملہ بھی کام کرے گا۔ 31 مارچ 1972 کی شب مینا کماری کے انتقال کے بعد آج تک بولی ووڈ کی کوئی دوسری اداکارہ ان کے معیار تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ دل اپنا اور پریت پرائی کے علاوہ ان کی یادگار فلموں میں صاحب بی بی اور غلام ، بیجو باؤرا ، پھول اور پتھر اور پاکیزہ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||