’مغل اعظم‘ نئے رنگ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی فلمی تاریخ میں مغل اعظم کا اپنا ایک خاص مقام رہا ہے۔ مغلیہ سلطنت کے شاہی پس منظر میں عالیشان سیٹ، بہترین مکالموں اور دلفریب موسیقی نے اس فلم کو ایک لافانی شاہکار بنا دیا۔ یہ بلیک اینڈ واہائٹ فلم 44 برس پہلے ریلیز ہوئی تھی لیکن آج ایک بار پھر ملک اور بیرون ملک خبروں میں ہے۔ بارہ نومبر کو مغل اعظم پورے ملک کے سنیماگھروں میں دوبارہ ریلیز ہو رہی ہے۔اس بار پوری فلم رنگین پرنٹ میں جاری کی رہی ہے۔ سن 1960 میں جب یہ فلم ریلیز ہوئی تھی اس وقت یہ بلیک اینڈ وہائٹ پرنٹ میں تھی- صرف آخری دو ریلیں ہی رنگین ہو پائی تھیں جن میں اداکارہ مدھوبالا پر فلمایا گیا مشہور نغمہ ’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘ بھی شامل تھا۔ سن پچاس کی دہائی میں جب یہ فلم بن رہی تھی اس وقت برطانیہ میں کلر ٹیکنالوجی کا آغاز ہو چکا تھا۔ فلم کے ہدایت کار کے آصف اسی وقت اس فلم کو رنگین پردے پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن فلم تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکی تھی اور کے آصف کا خواب ادھورا رہ گیا۔ فلمساز یا بطور پرڈیوسر اس فلم سے وابستہ کمپنی اسٹرلنگ انوسٹمنٹ کارپوریشن نے اس ادھورے خواب کو پورا کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر دو سال کی محنت کے بعد فلم کا رنگین پرنٹ تیار ہوا۔
اسٹرلنگ انوسٹمنٹ کارپوریشن کے ترجمان سنیل سوریہ ونشی نے بتایا کہ سب سے پہلے کمپنی نے ہالی وُڈ سے رابطہ قائم کیالیکن وہاں اس پراجیکٹ کا خرچ 75 کروڑ رپۓ بتایا گیا۔ رقم بڑی ہونے کے سبب یہ پراجیکٹ ہالی وُڈ میں شروع نہیں کیا جا سکا اور ہندوستان کے کمپیوٹر ماہرین سے مدد مانگی گئی۔ ماہرین نے کامیابی کے ساتھ ایک خصوصی سافٹ ویئر تیار کر لیا۔ سوریہ ونشی نے بتایا کہ سب سے پہلے پوری فلم کو صاف کیا گیا ہے کیوں کہ اس میں کافی دھبے پڑ چکے تھے اور کافی تعداد میں سوراخ بھی تھے۔ مغل اعظم مغل شہنشاہ اکبر کے بیٹے شہزادہ سلیم اور ایک کنیز انارکلی کی محبت کی داستان پر مبنی فلم ہے۔ سلیم کے کردار میں معروف اداکار دلیپ کمار نے اپنی اداکاری کے بہترین جوہر دکھائے تھے۔ انیس سو ساٹھ میں جب یہ فلم ریلیز ہوئی تھی اس وقت دلیپ کمار فلم کے پریمیئر میں شریک نہیں ہو سکے تھے کیوں کہ وہ ملک سے باہر تھے۔ لیکن اس بار وہ یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ ممبئی سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے ایک خصوصی بات چیت میں انہہوں نے فلم کے اپنے پسندیدہ منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’عام طور پر لوگوں کا پسندیدہ سین وہ ہے جس میں انارکلی اور سلیم شمع کی روشنی میں گفتگو کر رہے ہیں لیکن میرا پسندیدہ سین وہ ہے جہاں انارکلی ہندوستان کی ملکہ بننے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے اور شہزادے سلیم کو بیہوشی کی دوا پلا دیتی ہے۔‘ دلیپ کمار نے مغل اعظم کی دوبارہ ریلیز کے بارے میں کہا ہے کہ آرٹ اور فن کے اعتبار سے یہ ایک اچھی فلم ہے اور اسے نئی نسل بھی پسند کرے گی۔
مغل اعظم کی شوٹنگ 1944 میں شرع ہوئی تھی اور اس وقت کے مشہور اداکار چندرموہن، نرگس اور سپرو کو سائن کیا گیا۔ لیکن ملک کی تقسیم کے بعد یہ فلم تقریبا بند ہو گئی۔ بعد میں اسٹرلنگ کارپوریشن نے اس فلم کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور 1951 میں یہ فلم نئے اداکاروں کے ساتھ دوبارہ شروع ہوئی۔ اب اس میں پرتھوی راج کپور، دلیپ کمار اور مدھوبالا کو لیڈ رول میں لیا گیا۔ ابتدا میں اس فلم کا بجٹ 15 لاکھ روپئے تھا۔ یہ فلم پندرہ سال میں مکمل ہوئی اور اس کی تکمیل پر اس وقت ڈیڑھ کروڑ روپۓ خرچ ہوچکے تھے۔ اپنے دور کی سب سے مہنگی اس فلم کے بنانے میں ملک کی کئی ریاستیں کسی نہ کسی شکل میں شامل تھیں۔ انارکلی، جودھا بائی، اکبر اور سلیم کےشاہی لباس سینے کے لئے درزی دلی سے بلائے گئے تھے تو وہیں ان کے زیورات حیدرآباد سے منگائے گئے تھے۔ مختلف تاج کولہاپور کے کاریگر وں نے تیار کیے جبکہ لباسوں پر کڑھائی سورت میں کی گئی۔ بادشاہ اکبر کی فوج کے لئے ہتھیار راجستھان سے آئے جبکہ تمام اداکاروں کے جوتے خصوصی طور پر آگرہ سے منگائے گئے تھے۔ رنگین پرنٹ کے ساتھ اس فلم کا پریمیئر ہندوستان کے بڑے تہوار دیوالی کے دن بارہ نومبر کو ہو رہا ہے۔ اور اس فلم کو دیکھنے کے لئے نئی نسل میں وہی جوش و خروش ہے جو 44 برس قبل تھا جب یہ فلم بلیک اینڈ وہائٹ میں رلیز ہوئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||