لالو یادو کو کوئی پرابلم نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خبر ہے کہ فیروز خان کے صاحبزادے فردین خان کا دل ایک ہئیر ڈریسر پر آگیا ہے اور ہر وہ دو تین دن بعد اس کے سلون پہنچ جاتے ہیں ۔ اگر یہ سلسلہ ایسا ہی چلتا رہا تو بہت جلد وہ بھی اپنے پاپا کی طرح بولڈ اینڈ بیوٹی فل نظر آنے لگیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایشوریہ نے جو بالی ووڈ کے باہر بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں اور لندن کے میوزیم مادم توساد کی زینت بن گئی ہیں اپنے دام بڑھا دئیے۔ ان کے’ دوست‘ وویک اوبرائے ایک بار پھر ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے مچل رہے ہیں لیکن ایشوریہ فلم کے لئے اتنی بڑی رقم مانگتی ہیں کہ پروڈیوسرز بیچارے دروازے سے ہی واپس چلے جاتے ہیں ۔ اب سننے میں یہ آیا ہے کہ وویک ابرائے نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ ایشوریہ کے ساتھ بہت کم پیسوں میں بھی کام کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ہائے رے ’عشق نے ’ظالم‘ نکمہ کر دیا ورنہ ہم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ یوں بھی گرندر چڈھا کی فلم ’برائیڈ اینڈ پریجیوڈس ‘ ایش کے لئے ہالی ووڈ کے دروازے کھول سکتی ہے اور ایسی بھی خبریں ہیں کہ حال ہی میں ان کی ملاقات ہالی ووڈ کے اسٹار مائیکل ڈگلس سے ہوئی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ فلم میں کام کریں۔
دیا مرزا اور عرفان ہاشمی کو لیکر بنائی گئی انوراگ باسو کی فلم ’تم سا نہیں دیکھا‘ میں ایسا کچھ نہیں جسکو دیکھ کر یہ کہا جائے کہ’ پہلے نہیں دیکھا‘ وہی گھسی پٹی پرانی کہانی یعنی مجنوں امیر لیلی غریب اب اگر ہیروئین غریب ہے تو اس کے پاس بار ڈانسر کی نوکری کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ اسے کپڑے بھی تو چھوٹے چھوٹے پہنانے ہیں ۔ خیر دیا مرزا کے چھوٹے چھوٹے کپڑوں اور عرفان ہاشمی کی فلم مرڈر‘ والی امیج برقرار رکھنے کے باوجود بھی یہ فلم تماشبین کو متوجہ نہیں کر سکی۔ اداکار اور فلمساز مہیش منجھریک رنے لالو پرساد یادو کے نام پر ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کا نام ہے ’پدم شری لالو پرساد یادو‘جس کے لئے انہوں نے بہار جاکر لالو جی کی اجازت بھی لی جس پر لالو جی نے کہا ’جا رکھ لے کوئی پِرابلم نہیں‘ جس پر مہیش منجھریکر نے انہیں فلم کے ایک سین میں شامل کرنے کے لئے بھی منا لیا۔
مہیش کا کہنا ہے کہ یہ ایک مزاحیہ فلم تو ہے لیکن اس کا وزیر ریل سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو صرف لالو جی کی شہرت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں فلم میں لالو پرساد کا رول سنیل شیٹی ادا کریں گے۔ ٹیلی وثرن کی خبروں میں تو لالو جی کی اداکاری کے جوہر اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں اب کچھ بڑے پردے پر سہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||