دلیپ کمار اور فنِ اداکاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں 82 سالہ اداکار دلیپ کمار کی زندگی اور فن پر انگریزی میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ہندی میں بھی اسکی باز گشت سنی جاسکتی ہے لیکن اردو میں اس عہد ساز اداکار کی فلموں پر اب تک معیاری تحقیقی مواد کی شدید کمی رہی ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس خلا کو اب پاکستان کے ایک مصنف نے پُر کیا ہے۔ سعید احمد فلم اور ٹی وی کے لئے سکرپٹ نگاری کرتے ہیں۔ حال ہی میں ان کے سیریل ’راکھ‘، ’چمک‘ اور ’شناخت‘ ٹی وی ناظرین سے داد وصول کر چکے ہیں۔ دلیپ کمار سے انکی ابتدائی ملاقاتیں چند برس پہلے کویت میں ہوئیں جہاں مصنف ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ زیر نظر کتاب میں سعید احمد نے فلم ’ملن‘ سے لے کر’سوداگر‘ تک دلیپ کمار کی 40 فلموں کا تفصیلی جائزہ اور دلیپ کی اداکاری کے مختلف رنگوں کا مفصل تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کے ابتدائی ابواب میں اداکاری کے آرٹ پر بحث کی گئی ہے اور اس شعبے کے کچھ ماہرین کی آراء کے پس منظر میں دلیپ کے فن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ دلچسپ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ دلیپ عام خیال کے برعکس ’فطری اداکار‘ نہیں ہے بلکہ ’میتھڈ ایکٹر‘ ہے اور اس نے جدید اداکاری کے باوا آدم سٹینس لافسکی کو سبقاً سبقاً پڑھا ہے۔ انیس سو بائیس میں پشاور میں پیدا ہونے والا یوسف خان پھلوں کا سوداگر تھا اور اس نے پونا کی فوجی کینٹین میں پھلوں کا ایک سٹال لگا رکھا تھا۔ اس زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیوکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے بیس سالہ یوسف حان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں اسے دلیپ کمار کے فلمی نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کر لیا۔ دلیپ کمار کی زندگی اور فن پر شائع ہونے والی آٹھ سو سولہ صفحات پر مشتمل اس دستاویز کا نام مصنف نے صحیح طور پر ’عہد نامۂِ محبت‘ رکھا ہے کیونکہ یہ واقعی فنِ اداکاری کے ساتھ دلیپ کی گہری محبت کی داستان ہے۔ ترنگ پبلیکیشنز لاہور کی شائع کردہ اس کتاب کی قیمت 800 روپے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||