پاکستان میں فلمی تربیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں اگلے برس کے آغاز سے فلم کا شعبہ قائم کر دیا جاے گا۔ یہ اعلان کالج کے پرنسپل نے حال ہی میں منعقد ہونے والی پانچ روزہ ہسپانوی فلم ورکشاپ کے اختتام پر کیا۔ ماسٹر لیول کا یہ پروگرام چلانے کے لئے فریال گوہر، عثمان پیرزادہ، ثمینہ پیرزادہ، شیریں پاشا، سجاد گل اور دیگر ممتاز ملکی فلم سازوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی جبکہ غیر ملکی ماہرین سے بھی استفادہ کیا جائے گا جن میں جرمنی کے وولف گینگ لینگزفیلڈ اور سپین کے ڈان آسکر شامل ہیں۔ اگر منصوبے کے مطابق یہ پروگرام شروع ہو جاتا ہے تو پاکستان کی تاریخ میں نیشنل کالج آف آرٹس فلم کی تعلیم دینے والا پہلا ادارہ ہو گا۔
ہسپانوی فلم ورکشاپ کا انعقاد این سی اے نے ہسپانوی سفارت خانے کی وساطت سے کیا اور اس کے لئے سپین کے مشہور فلمی نقاد ڈان آسکر پیرو کو ان کے چند ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان مدعو کیا گیا تھا۔ ان پانچ دنوں میں ورکشاپ کے شرکاء کو ہسپانوی فلمیں دکھائی گئیں اور ہر سکریننگ کے بعد فلم سازی اور فلم سے متعلق دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔ ورکشاپ کے اختتامئیے میں گورنر لاہور جنرل خالد مقبول اور سپین کے سفیر انٹونیو سیگورا مورس نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈان آسکر اور انٹونیو سیگورا نے پاکستانی میزبانی کو سراہا اور طلباء کے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ہسپانوی اور پاکستانی طلباء اور فلم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا تبادلہ مستقبل میں بھی ہوتے رہنا چاہئیے۔ ڈان آسکر نے خصوصی طور پر کہا کہ پاکستان میں فلم سے متعلق ہونے والی کسی بھی پیش رفت میں وہ اپنی خدمات دینے کو تیّار ہیں۔ گورنر لاہور جنرل خالد مقبول نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں فلم کا معیار بتدریج گراوٹ کا شکار ہے لہٰذا نیشنل کالج آف آرٹس کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے اور اس ضمن میں پنجاب حکومت کالج کا بھر پور ساتھ دے گی۔ اس سے قبل این سی اے ڈرامہ سازی، ڈاکومنٹری، اور فلم سے متعلق ورکشاپس کروا چکا ہے جو بالترتیب فریال گوہر، شیریں پاشا اور عثمان پیرزادہ نے کروائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||