عارف وقار بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
 |  سر عبدالقادر اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں |
1940 کے عشرے میں لاہور شمالی ہندوستان کے فلمی سرکٹ کا اہم ترین مرکز بن چُکا تھا۔ اس سرکٹ میں پنجاب، سندھ، اور سرحد کےعلاوہ دہلی اور یُو پی کا تمام علاقہ شامل تھا چنانچہ کسی فلم پر لاہور کے ناظرین کا ردِ عمل اسکی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ بن چُکا تھا۔ لاہور کی اس اہمیت کا براہِ راست اثر یہاں کی فلمی صحافت میں نظر آتا تھا۔ شہر میں پچاس کے قریب بارسوخ فلمی صحافی تھے جن میں سےبیشتر انگریزی میں لکھتے تھے۔ ماہنامہ ’ اداکار‘ کے اجراء کے بعد اُردو کے فلمی صحافی بھی منظرِ عام پر آئے لیکن ہندی میں فلمی صحافت کے لئے لاہور کا ماحول سازگار ثابت نہ ہوا۔ انگریزی اور اُردو کے فلمی صحافیوں کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی فلم کا پریمئر لاہور کے نام ور صحافیوں کے بغیر ادھورا سمجھاجاتا تھا۔ دلسکھ پنچولی اپنی ہر فلم کے افتتاحی شو پر لاہور کے تمام صحافیوں کو مدعو کرتے اور اگر کوئی صحافی شو پر نہ آتاتو اگلے روز اسکی خیریت معلوم کرنے اُس کے گھر پہنچ جاتےاور اسکی غیر حاضری کا گلہ شکوہ کرتے ۔ لاہور کے تمام فلمی رسالوں میں مواد کی نوعیت اور ترتیب و پیشکش کا اندازہ تقریباً ایک سا تھا یعنی لاہور کی فلمی خبریں، کسی اداکار یا اداکارہ کا با تصویر انٹر ویو ، کسی ڈائریکٹر یا پروڈیوسر سے بات چیت، کلکتے اور بمبئی کی فلمی ڈائری، فلمی گپ شپ کا کالم اور ایک آدھ ہلکا پھلکا، عموماً بے ضرر سا سکینڈل۔ البتہ جو دھڑے بندیاں لاہور کی فلمی دنیا میں موجود تھیں وہی فلمی رسالوں میں بھی نظر آتی تھیں اور کسی بھی رسالے کو ایک نظر دیکھ کر بتایا جا سکتا تھا کہ یہ کونسے فلمی دھڑے کی حمایت کرتا ہے۔
 |  لاہور کی پروڈکشن ’شہر سے دور‘ (1946) کا ایک یادگار پوسٹر |
لیکن بعض موقعوں پر فلمی صحافی اپنے ذاتی اختلافات بُھول کر متحد بھی ہو جاتے – خاص طور پر جب لاہور کی عزت و شہرت داؤ پر لگی ہو۔ چنانچہ جب بمبئی میں ایک بہت بڑی فلمی کانگرس منعقد ہوئی تو لاہور کے تمام صحافیوں نے ماہنامہ ’اداکار‘ کے ایڈیٹر عطا اللہ ہاشمی کی قیادت میں جمع ہو کر فیصلہ کیا کہ لاہور میں بھی ایک فلی کانگرس منعقد کی جائے اور اسطرح ’ نارتھ انڈیا فلم کانگرس‘ کے نام سے لاہور میں ایک عظیم الشان اجتماع ہوا جسکی کاروائی چار روز تک جاری رہی۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت سر عبدالقادر نے کی جو ان دنوں ہائی کورٹ کے جج تھے۔ اِس کانگرس کو کئی ذیلی جلسوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پروڈیوسروں کے جلسے کی سربراہی نیو تھیٹرز کے بی ۔ این سرکار کو سونپی گئ، ڈائریکٹروں کے سرخیل پی سی بروا مقرر ہوئے (جی ہاں! سہگل کی دیو داس والے پی سی بروا) میوزک کا شعبہ فاضل بھائی نے سنبھالا، اداکاروں کا جلسہ موتی لال کے سپرد ہوا اور فلمی صحافیوں کے اجلاس کی صدارت امرت بازار پترِکا کے ایڈیٹر کانتی گھوش نے کی۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے بمبئی اور کلکتہ سے بہت سی اہم فلمی شخصیتیں آئیں لیکن زیادہ اہم بات یہ تھی کہ فلم سے باہر کے شعبوں کی نام ور شخصیات اور حکومتِ پنجاب کے عمائدین نے اس کانفرنس میں بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا جو اس امر کی جانب اشارہ تھا کہ سینما کو ایک معزّز آرٹ کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے ۔
 |  لاہور شمالی ہندوستان میں فلم سازی کا واحد مرکز تھا |
لاہور میں فلمی صنعت کی تیزی سے ترقی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ بمبئی اور کلکتہ کے مقابلے میں یہاں فلم سستے داموں پروڈیوس ہو جاتی تھی یعنی پینتیس چالیس ہزار روپوں میں پوری فلم تیار ہو جاتی تھی۔ 1940 کے لگ بھگ لاہور میں تیار ہونے والی فلموں کے بجٹ پر ایک نگاہ ڈالئے تو پتہ چلے گا کہ سٹوڈیو کی شِفٹ 75 روپے میں بُک ہو جاتی تھی اور کوڈک کا نیگیٹو نوّے دِن کے اُدھار پر مل جاتا تھا ۔ ڈائریکٹر کی اوسط تنخواہ چار سو روپے ماہوار تھی جبکہ میوزک ڈائریکٹر ڈھائی سو روپے ماہوار لیتا تھا اور اداکاروں کی تنخواہ صرف چالیس روپے سے سو روپےماہوار تک تھی۔ چوٹی کے پلے بیک سنگر ایک گانے کا پچاس روپے  |  لاہور میں جنگی پروپیگینڈے کی فلمیں بھی بنتی تھیں |
لیتے تھے جبکہ سازندوں کو صرف دو یا تین روپے دیہاڑی مِلتی تھی۔ لیکن سب سے بُرا حال فلمی شاعر کا تھا جسے ایک گیت لکھنے کا معاوضہ صرف ایک روپیہ ملتا تھا۔ لاہور میں جو پروڈیوسر مہنگی فلم بنانے کی استطاعت رکھتے تھے وہ کلکتے اور بمبئی سے بھی آرٹسٹ منگوا لیتے تھے چنانچہ اس زمانے میں جدن بائی ( نرگس کی والدہ ) رتن بائی، رینوکا دیوی، جینت، شانتا اپٹے اور کئی معروف آرٹسٹوں نے لاہور آ کر یہان کی فلموں میں کام کیا ۔ لیکن آرٹسٹوں کا بہاؤ اُلٹی سمت میں بھی جاری رہا یعنی لاہور میں نام پیدا کرنے کے بعد اداکار بمبئی کا رخ کرتے تھے۔ تقسیمِ ملک کے وقت یہ بہاؤ تیز تر ہو گیا۔ پاکستان قائم ہوا تو چند جلی ہوئی عمارتیں، کچھ ٹوٹا پھوٹا تکنیکی سامان، کچھ سہمے ہوئے اداکار اور پریشان حال پروڈیوسر – یہ تھا یہاں کا کُل فلمی اثاثہ۔ لیکن بعد کے بیس برسوں میں اسی بے سروسامانی کی کوکھ سے اُس دھڑکتی پھڑکتی فلمی صنعت نے جنم لیا جو سال میں ایک سو سے زیادہ فلمیں مارکیٹ میں لاتی تھی اور جس کے دامن سے لاکھوں افراد کا روز گار وابستہ تھا۔ (جاری ہے)
|