عدنان عادل بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور |  |
 |  سنگیتا واحد فلم ساز ہیں جو فلمیں بناتی چلی جا رہی ہیں |
اس برس بھی بکرا عید پر فلمی صنعت بدستور نئی فلموں کی کمی کا شکار ہے اور کل صرف ایک نئی اردو فلم جبکہ دو پنجابی فلمیں اور چار پشتو فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہیں جبکہ فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں بکراعید پر فلم بینوں کو متعدد نئی فلم دیکھنے کو ملتی تھیں۔ جو نئی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہیں ان میں سے دو فلمیں تو ہدایتکار سنگیتا کی ہیں ، ایک ارود فلم مصطفے خان اور دوسری پنجابی فلم بھولا سنیارا ہیں۔ ہدایتکار سنگیتا ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے فلمی صنعت کے شدید بحران میں بھی فلمیں بنائے جارہی ہیں گو ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فلموں میں مخصوص قسم کے رقصوں کو شامل کرکے سینما دیکھنے والوں کے ایک مخصوص طبقہ کو خوش کررہی ہیں۔ ان کی نئی فلم بھولا سنیارا میں پشتو فلموں کی رقاصہ صائمہ خان بھی ہیں جن کے رقصوں کی ایک خاص طرح کی شہرت ہے۔ ایک اور پنجابی فلم پرویز رانا کی وڈا چودھری ہے جس میں یوسف خان نے وڈا چودھری کا کردار ادا کیا ہے۔ اس بار بکراعید پر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی تینوں فلموں کے ہیرو شان اور ہیروئین صائمہ ہیں۔ بدھ کے روز لاہور میں صوبائی سینسر بورڈ کے سامنے ایک اردو فلم شیچر ڈے نائٹ منطوری کے لیے دیکھی گئی جس میں اسٹیج کی رقاصہ میگھا کے رقص شامل ہیں لیکن سینسر بورڈ نے اس کے مکالموں اور گانوں پر اعتراضات کرکے اس فی الحال نمائش کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور اب یہ فلم منظوری کے لیے فل بورڈ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ ایک اردو فلم پیار تو ہوتا مکمل ہونے کی قریب ہے اور آجکل اس کا تیکنیکی کام مکمل ہورہا ہے۔ اس فلم میں سب نئے چہرے شامل ہیں۔ |