’چاہت کا گئیر لگا دے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں لڑکی ہوں زیرو میٹر ، سکھادے مجھے پیار ، تو چاہت کا گئیر لگادے جانوں پہلی بار ۔۔۔۔۔ یہ الفاظ ایک گانے کے ہیں جو عاصمہ لتا نے گایا ہے عید الحضیٰ پر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی اردو فلم سیچر ڈے نائٹ کے لیے۔ جس کا افتتاح بدھ کو لاہور کے سینما میں فوٹو سیٹ لگا کر کیا گیا۔ جیسا کہ فلم کے نام سے کچھ ظاہر ہے کہ یہ فلم اتوار کی چھٹی سے پہلے ہفتہ کی رات کے بارے میں ہے۔ اس کے فلم ساز شہزاد گجر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فلم میں وہ دکھایا گیا ہے جو ان کے بقول آجکل ہفتہ کی رات کو کیا جاتا ہے یعنی جنسی بے راہ روی۔ اس فلم کے ہدایتکار رشید ڈوگر ہیں جو اس سے پہلے غازی علم دین شہید جیسی فلم بناچکے ہیں۔ ان کی دوسری فلموں میں جانور اور محبوبہ شامل ہیں۔ فلم کی کہانی اس کے ہیرو معمر رانا کے گرد گھومتی ہے جو اپنی ماں کو اس کے آشنا کے ساتھ دیکھ کر ان دونوں کو قتل کردیتا ہے اور اس کے بعد ہر ہفتہ کی شب ایک پیشہ ور عورت کے ساتھ گزار کر اسے قتل کردیتا ہے۔
فلم کی ہیروئین اسٹیج کی مشہور رقاصہ میگھا ہیں۔ فلم میں دو نئی لڑکیاں حیا اور دیا بھی ہیں اور فلم کے گانے عاصمہ لتا کے علاوہ حمیرا ارشد اور سرور مہندی نے گائے ہیں۔ فلم کا ایک گانا کچھ یوں ہے۔ سب مرے ناز اٹھاتے ہیں مگر شام کے بعد ، دن کے اجالے میں لوگ مجھے بھول جاتے ہیں ، لب مرے جام پلاتے ہیں مگر شام کے بعد۔ فلم میں ایک اور گانا پنجابی میں ہے جو تیس سال پرانی فلم جیرا بلیڈ کا ری مکس ہے جو کچھ یوں ہے۔ تیرے پت میرے نین ، میرے کہن تے چندرا شراب چھڈ دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||