بالی وڈ :آخری راستہ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فلم انڈسٹری کی طاقتور شخصیات ملک میں انڈین فلموں کی نمائش کی اجازت کے لئے حکومت پر دباؤ بڑھانےکی کوشش کررہی ہیں۔ فلم انڈسٹری کی سرکردہ شخصیات کا کہنا ہے کہ انڈین فلموں کی نمائش کے ذریعے پاکستان کی زبوں حال انڈسٹری میں دوبارہ سے جان ڈالی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش پر 1965 کی جنگ کے بعد پابندی عائد کردی گئی تھی۔ پاکستان کے ایک بڑے فلم سٹوڈیو کے مالک اور پروڈیوسر شہزاد گل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اپنی فلم انڈسٹری مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسٹر گل ان پاکستان کے ان چند فلم پروڈیوسرز میں سے ایک ہیں جن کی فلمیں اب بھی کبھی کبھار کامیاب ہوجاتی ہیں۔
پاکستان کی فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن اور سینیما مالکان کی تنظیم اس سلسلے میں وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کی اس درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے کہ فی الحال حالات ایسی اجازت دینے کے لئے موزوں نہیں ہیں۔
لیکن فلم انڈسٹری اس سال کے آخر میں مشہور زمانہ فلم ’مغلِ اعظم‘ کی دوبارہ ریلیز کے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے بے چین ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت نے ڈسٹری بیوٹرز کو ’مغل ِ اعظم‘ کی درآمد کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک خط اکبر آصف ، جو فلم کے مرحوم پروڈیوسر کے آصف کے صاحبزادے ہیں اور فلم کے رائٹس ان کے پاس ہیں، کے نام ارسال کردیا گیا ہے۔ تاہم مسٹر رشید کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی فلم کی ریلیز کی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سینیما مالکان کی تنظیم کے سربراہ زوریز لاشاری کا کہنا ہے کہ مغل ِ اعظم کی پاکستان میں ریلیز اکبر آصف کے ذاتی اثر و رسوخ کی بدولت ممکن ہوگی لیکن اس سے مجموعی طور پر حالات نہیں بدلیں گے۔ فلم انڈسٹری کے کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ملک میں انڈین فلموں کی نمائش سے مقامی فلمیں بری طرح سے متاثر ہونگی اور ان ’بالی وڈ‘ کے رنگ میں رنگ جانے کا اندیشہ ہے۔ لیکن شہزاد گل کا خیال ہے کہ ایسا پہلے ہی ہوچکا ہے اور ٹی وی چینلز ، کیبلز اور دیگر ذرائع سے ملک بھر میں گھر گھر میں انڈین فلمیں ہی چلتی ہیں۔ فلم انڈسٹری میں شہزاد گل اور زوریز لاشاری جیسی شخصیات کا اصرار ہے کہ پاکستان میں سینیما کا مستقبل مکمل طور پر انڈین فلموں کی نمائش پر منحصد ہے۔ پاکستان میں 1970 میں اندازہً 1300 سینیما گھر تھے اور ملک میں سالانہ تین سو کے لگ بھگ فلمیں بنتی تھیں۔ سن دو ہزار پانچ میں ملک میں سینیما گھروں کی تعداد 270 رہ گئی ہے اور پچھلے سال ملک میں صرف سترہ فلمیں بنائی گئیں۔ ’یہ ضروری نہیں کہ ہم بالی وڈ کے بہت زیادہ پسند کرتے ہوں لیکن اگر ہم کاروباری نکتہ نگار سے دیکھیں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس انڈسٹری کی بقا اب انڈین فلموں کی نمائش پر ہی ہے کیونکہ پاکستان میں اتنی فلمیں بنتی ہی نہیں کہ ان کی سال کے باون ہفتوں تک نمائش کی جاسکے۔‘ شہزاد گل کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انڈین فلموں کی تعداد پر کوئی حد نافذ کرنا چاہتی ہے تو یہ بھی انڈسٹری کو قبول ہوگا لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ پاکستان میں سینیما کی بقا کے لئے انڈین فلموں کی نمائش کی اجازت ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||