لالی وڈ: کل اور آج (3) | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1930 کے لگ بھگ لاہور میں جو فلمیں بن رہی تھیں وہ زیادہ تر ہالی وڈ کی ابتدائی فلموں سے متاثر تھیں۔ یہ مماثلت محض کہانی یا ایکشن تک محدود نہیں تھی بلکہ اداکاری، میک اپ، کیمرہ ورک ہر پہلو سے ہالی وڈ کو مشعلِ راہ بنایا جاتا تھا اور ہیرو ہمیشہ ڈگلس فیئربینکس یا ویلنٹینو کے انداز میں جلوہ گر ہوتا۔ جو فلمیں براہِ راست امریکی موضوعات کا چربہ نہیں ہوتی تھیں اُن میں ہیرو کو صوبہء سرحد کا لباس پہنا دیا جاتا تھا۔ یہ اہتمام اس لئے کیا جاتا تھا کہ لاہور کی فلموں کا ہیرو بمبئی کی فلموں سے الگ نظر آئےجو کہ راجپوت یا مرہٹے کے روپ میں نمودار ہوتا تھا۔ کاردار اور ایم اسماعیل نے یونائیٹڈ پلیئرز کے نام سے راوی روڈ پر اپنا سٹوڈیو قائم کر لیا تھا۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ ایم اسماعیل اپنی فلموں کے پوسٹر بھی تیار کرتے تھےاور کاردار اداکاری اور ہدایت کاری کے علاوہ سٹل فوٹو گرافی بھی کرتے تھے۔ کمپنی کے مستقل اداکاروں میں ایم اسماعیل، ہیرالال، گُل حمید، نذیر اور احمد دین شامل تھے جبکہ خواتین میں مِس کوشلیا دیوی، مس ممتاز اور مس گلزار کے نام ملتے ہیں۔ لاہور میں بننے والی ان فلموں کی اوسط لمبائی دس ہزار فٹ تھی اور فلم کی پروڈکشن پر بارہ سے پندرہ ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ Sweet Heart, The Prisoner, Masked Rider, The Golden Dagger, Passion Flower, The Sacred Flame, House Boat, Golden Temple, The Award, Paradise ان کے علاوہ کچھ نام اُردو میں بھی درج ہیں یعنی : لالہ رخ، کافر، خواجہ سرا اور فردوس۔ ظاہر ہے یہ تمام منصوبے پورے نہ ہو سکے کیونکہ خاموش فلموں کا دور ختم ہو رہا تھا۔ لندن میں ہچکاک کی خاموش فلم ’بلیک میل‘ مکمل ہو چکی تھی کہ پروڈیوسر نے اسے بولتی فلم میں تبدیل کرنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ امریکہ میں دو برس پہلے ہی ’ جاز سِنگر‘ کے نام سے پہلی متکلم فلم ریلیز ہو چکی تھی۔ دنیا بھر میں ناطق فلموں کی آمد کا شور برپا تھا۔ بمبئی اور کلکتہ میں سخت مقابلہ شروع ہو چکا تھا کہ پہلی بولتی فلم کون بناتا ہے اور 1931 میں بمبئی نے ’عالم آرا ‘ بنا کر اِس دوڑ میں فتح حاصل کر لی۔ لاہور میں پہلی ناطق فلم بنانے کا اعزاز حکیم رام پرشاد کو حاصل ہوا۔
اگرچہ تین چار برس پہلے ’ہیر رانجھا‘ بن چکی تھی اور اس کے اداکار بھی لاہور ہی سے لئے گئے تھےلیکن گانوں اور مکالموں کے ساتھ اس کہانی کو فلمانے کا مزہ ہی جدا تھا چنانچہ حکیم رام پرشاد نے ایک بار پھر ایم اسماعیل کو لنگڑے کیدو کی لاٹھی تھما دی۔ رانجھے کا کردار نوجوان اور خوبرو سنگر اور موسیقار رفیق غزنوی کو سونپا گیا جبکہ ہیر کے لئے انوری نامی خاتون کا انتخاب ہوا اور نذیر کے حصے میں قاضی کا کردار آیا۔ ہیر رانجھا لاہور میں کاردار کی آخری فلم ثابت ہوئی کیونکہ وہ جلد ہی عازمِ کلکتہ ہو گئے: ’کچھ اور چاہئیےوسعت مرے بیاں کے لئے‘ کلکتے کے بعد اُن کی منزل بمبئی کی فلم نگری بنی جہاں وہ اپنے زمانے کے کامیاب ترین ڈائریکٹر ثابت ہوئےاور فلم بینوں کو انھوں نے شاہ جہاں، درد، دُلاری، دِل لگی، جادُو، دلِ ناداں، یاسمین، دو پھول اور دل دیا درد لیا جیسی فلموں کے تحفے دئیے۔ ایم اسماعیل بھی کچھ عرصہ کلکتے اور بمبئی کے نگار خانوں میں اداکاری کے جوہر دکھاتے رہے لیکن جلد ہی انھیں لاہور کی یاد ستانے لگی اور وہ اپنے آبائی شہر لوٹ آئے جہاں مزید چالیس برس تک انھوں نے پنجابی اور اُردو فلموں میں کام کیا اور 1975 میں لاہور میں وفات پائی۔ (جاری ہے) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||