فلمی صنعت، پنچولی کے بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
Box بمبئی کے معروف فلم ساز بی ۔ آر ۔ چوپڑا نے لاہور میں ایک فلمی صحافی کے طور پر اپنے کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ Caption Picture 1 Headline Text انہی دنوں لاہور میں ’اپر انڈیا سٹوڈیو‘ کے نام سے ایک اور نگار خانہ کُھل گیا اور مشہور مصوّر عبدالرحمٰن چغتائی نے اس میں فلم ’ بُت تراش‘ کی شوٹنگ شروع کر دی۔ اس فلم کی کہانی سیّد امتیاز علی تاج کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی لیکن فنانسر کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ فلم کبھی مکمل نہ ہو سکی۔ دُنیا میں دوسری جنگِ عظیم کا ہنگامہ ختم ہوا تو برِ صغیر میں تقسیم کے فسادات شروع ہو گئے اور فلمی کاروبار پر اسکا براہ راست اثر پڑا۔ لاہور کے مختلف نگار خانوں میں شروع ہونے والی فلمیں ادھوری رہ گئیں کیونکہ غیر مسلم فن کاروں اور تکنیکی ماہروں کی اکثریت نقلِ وطن کر کے بھارت چلی گئی تھی۔ سرداری لال نے اپنی فلم البتہ 1948 میں مکمل کر لی جسکا نام تھا شروع میں تو معاشرہ فلم کو ایک با عزت آرٹ کے طور پر قبول کرنے سے ہی انکاری ہے چنانچہ اخبارات میں فلموں کے اشتہارات چھپوانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ عام مسلمان گھرانوں میں فلم دیکھنا گناہِ کبیرہ کی ذیل میں آتا ہے چنانچہ مسلم فنکار ہندو فلمی نام اختیار کرتے ہیں اور یہ روایت نمّی، مدھوبالا اور دلیپ کمار سے ہوتی ہوئی پاکستان میں سنتوش کمار، درپن، سدھیر اور رتن کمارتک پہنچتی ہے۔ آج اگر آپ پنجاب سینما آرٹ سوسائٹی کی پُرانی فائیلیں کھنگالیں تو عہدِے داروں کی فہرست میں صرف ایک مسلمان نام نظر آتا ہے ( ایم۔ ایس۔ ڈار) البتہ سوسائٹی کے سرپرستوں میں سر چھوٹورام، ڈاکٹر گوکل چند نارنگ اور سر منوہر لال کے ساتھ ساتھ وزیرِخزانہ سر سکندر حیات ( سرپرستِ اعلٰی)، چوہدری شہاب الدین، احمد یار دولتانہ اور حکیم احمد شجاع کے نام بھی نظر آتے ہیں۔ پنجاب سینما آرٹ سوسائٹی کی جو کارروائیاں ریکارڈ میں محفوظ ہیں انھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فلم آرٹ کی خِدمت اور فلم کلچر کے تحفّظ اور ترویج کا اعلٰی مقصد آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا گیا اور یہ سوسائٹی عملاً تعلقاتِ عامہ کی ایک ایسی کمیٹی بن گئی جسکا کام کلکتے اور بمبئی سے آنے والے فلمی ستاروں کا شاندار خیرمقدم کرنا اور اُن کے ورائٹی شو منعقد کرانا تھا، لیکن 1930 کے عشرے میں ایسی فلم سوسائٹی کا وجود میں آجانا ہی بڑی بات تھی جسکے سرپرستوں میں سیاست اور ادب کے عمائدین شامل ہوں۔ ان دنوں اخبارات کا رویہ فلم والوں کے حق میں خوشگوار نہیں تھا اور بڑے سے بڑے فلمی واقعے کی خبر بھی اخبار میں جگہ نہیں پاتی تھی چنانچہ فلم والوں نے خود اپنے اخبارات و جرائد شروع کرنے کی ٹھانی اور یوں سن تیس کے عشرے میں لاہور کی فلمی صحافت کا آغاز ہوا۔ اس سلسلے کا پہلا جریدہ انگریزی میں شائع ہوا، نام تھا ’ سینما‘ اور ایڈیٹر تھے ڈی۔ڈی کپور لیکن ابھی تین ہی شمارے منظرِ عام پر آئے تھے کہ کپور صاحب ایک جان لیوا بیماری کی نذر ہو گئے اور رسالے کی طباعت اور ادارت کا فریضہ بودھ راج اوبرائے نے سنبھال لیا۔ انھوں نے کئی برس تک یہ فلمی رسالہ کامیانی سے چلایا۔ 1933 میں لاہور کے تین نوجوانوں نے ہفت روزہ Movie Critic شروع کیا اور اس کے ایک سال بعد لاہور سے اُردو کا پہلا فلمی رسالہ شائع ہوا، نام تھا اس زمانے میں لاہور سے اور بھی بہت سے فلمی جرائد شروع ہوئے جن میں ایم ۔ ایس ڈار کا تصویری ماہنامہ’ فلم پکٹوریل‘ ای۔ پی بیری کا ’ فلم ورلڈ‘ بشیر ہندی کا ’ فلمستان ‘ اور بھاٹیا کا ’ چترا‘ شامل ہیں، لیکن ہماری دلچسپی کا مرکز اس زمانے کا معروف رسالہ ’ سینما ہیرلڈ‘ ہے کیونکہ اسے لاہور کے فلمی صحافی بی ۔ آر ۔ چوپڑا ایڈیٹ کرتے تھے جو قیامِ پاکستان کے بعد بمبئی چلے گئے تھے اور وہاں اُُس فلمی سلطنت کی بنیاد رکھی جسکی سرحدیں اُن کے چھوٹے بھائی یش چوپڑا اور بھتیجے آدیتہ چوپڑا نے ہندوستان کے کونے کونے تک پھیلادی ہیں۔ برِ صغیر کی تاریخ میں دس برس تک مسلسل چلنے والی فلم |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||