بھارتی فلمیں: نمائش بدستور ممنوع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلموں کی نمائش سے وابستہ افراد کے شدید دباؤ کے باوجود حکومتِ پاکستان نے بھارتی فلموں کی نمائش پر چالیس سال سے عائد پابندی قائم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی قائم رکھنے کا اعلان وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے فلمسازوں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد کیا۔ تاہم وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداکاروں کے بھارتی فلموں میں کام کرنے کی مخالفت نہیں کی جائے گی۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی۔ حکومتِ پاکستان سے بالی وڈ کی تیارہ کردہ فلمیں دکھانے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے پاکستانی فلمی صنعت کی نمایاں اور بااثر شخصیات نے کافی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلمی صنعت کی خراب حالی دور کرنے کا واحد راستہ یہ رہ گیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے ایک اہم فلم ساز شہزاد گل نے کہا تھا کہ ’مقامی سطح پر پاکستانی فلمی صنعت نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ مقامی مارکیٹ کے مطالبات قطعاً پورے نہیں کر سکتی۔ حالیہ دہائیوں میں پاکستان میں فلم بین طبقے نے سینیما گھروں میں جانا چھوڑ دیا ہے اور لوگوں کی اکثریت اب بھارتی فلموں کی نقلی سی ڈیز یا ڈی وی ڈیز دیکھ لیتے ہیں۔ انیس سو ستر کی دہائی میں پاکستان میں ایک ہزار تین سو سینیما گھر تھے لیکن آج یہ تعداد کم ہو کر دو سو پچاس رہ گئی ہے۔ بند ہونےوالے سینیما گھروں میں یا تو کاروباری مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں یا پھر وہاں پیٹرول سٹیشن قائم کر دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں فلمیں بنانے کی رفتار بھی بہت ہی سست ہوگئی ہے اور گزشتہ برس صرف اٹھارہ فلمیں بنائی گئیں حالانکہ انیس سو ستر کی دہائی میں ایک سال میں فلمیں بنانے کی رفتار تین سو تک تھی۔ شہزاد گل کا کہنا ہے ’ بالی وڈ نے ہمارے گھروں تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے بھارت میں فلم ریلز ہوتے ہی کیبل کے توسط سے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتی ہے اور ہر قسم کی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز تک ہماری رسائی ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||