BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 June, 2005, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی صنعت۔پنچولی کے بعد

تیری یاد
تیری یاد : قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کی پہلی فلم
دوسری جنگِ عظیم کے دنوں میں لاہور کی فلم انڈسٹری دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھی۔ فلم بینوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا اور نئے سینما گھروں کے ساتھ ساتھ نئے نگار خانوں کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی تھی چنانچہ آر ۔ایل شوری نے اپنے فلم ساز ادارے میں توسیع کی اور ملتان روڈ پر اپنا ایک سٹوڈیو بھی تعمیر کر لیا۔ ( بعد میں یہی جگہ شاہنورسٹوڈیو کے نام سے مشہور ہوئی) خواجہ احمد عباس بمبئی سے لاہور آئے اور شوری کے سٹوڈیو میں انھوں نے اپنی فلم ’ کل اور آج‘ کی شوٹنگ کی۔

انھی دنوں لاہور میں ’اپر انڈیا سٹوڈیو‘ کے نام سے ایک اور نگار خانہ کُھل گیا اور مشہور مصوّر عبدالرحمٰن چغتائی نے اس میں فلم ’ بُت تراش‘ کی شوٹنگ شروع کر دی۔ اس فلم کی کہانی سیّد امتیاز علی تاج کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی لیکن فنانسر کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ فلم کبھی مکمل نہ ہو سکی۔

دُنیا میں دوسری جنگِ عظیم کا ہنگامہ ختم ہوا تو برِصغیر میں تقسیم کے فسادات شروع ہو گئے اور فلمی کاروبار پر اسکا براہ راست اثر پڑا۔ لاہور کے مختلف نگار خانوں میں شروع ہونے والی فلمیں ادھوری رہ گئیں کیونکہ غیر مسلم فن کاروں اور تکنیکی ماہروں کی اکثریت نقلِ وطن کر کے بھارت چلی گئی تھی۔

سرداری لال نے اپنی فلم البتہ 1948 میں مکمل کر لی جسکا نام تھا
’ تیری یاد‘ اور جسے پاکستان کی پہلی فلم قرار دیا جاتا ہے۔ لاہور کے صحافی عطا اللہ شاہ ہاشمی کی فلم ’ کنیز‘ بھی لاہور میں ادھوری ہی رہ جاتی لیکن انھوں نے بمبئی جا کر اسے مکمل کر لیا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے کےبیس برس پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو لاہور کی فلمی دنیا ایک دلچسپ منظر پیش کرتی ہے۔

News image
پاکستان کے پہلے فلم پروڈیوسر دیوان سرداری لال

شروع میں تو معاشرہ فلم کو ایک با عزت آرٹ کے طور پر قبول کرنے سے ہی انکاری ہے چنانچہ اخبارات میں فلموں کے اشتہارات چھپوانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ عام مسلمان گھرانوں میں فلم دیکھنا گناہِ کبیرہ کی ذیل میں آتا ہے چنانچہ مسلم فنکار ہندو فلمی نام اختیار کرتے ہیں اور یہ روایت نمّی، مدھوبالا اور دلیپ کمار سے ہوتی ہوئی پاکستان میں سنتوش کمار، درپن، سدھیر اور رتن کمار تک پہنچتی ہے۔

لیکن جو معاشرہ فلمی کلچر کو مسترد کر رہا تھا اسی میں کچھ لوگ معاشرے کی لعن طعن کو خاطر میں لائے بغیر فلموں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے تھے۔

روشن لال شوری کے پاس اپنی فلم ’رادھے شیام‘ کی تکمیل کے لیے پیسے نہیں تھے چنانچہ اس زمانے کے مشہور پارسی ڈاکٹر ای ۔ پی بروُچہ نے انھیں سرمایا فراہم کر کے فلم مکمل کرائی۔ کئی سیاسی کارکن اور لکھاری اپنے نظریات کی تبلیغ کے لئے اس میدان میں آئےمثلاً کیدار ناتھ سہگل اور نانک چند ناز۔ انھیں دنوں لاہور کے چند نوجوانوں نے The Punjab Cinema Art Society
قائم کی جس کا مقصد اِس علاقے میں فلم کو ایک آرٹ کے طور پر متعارف کرانا اور عوام میں فلم آرٹ کی تفہیم پیدا کر کے سمجھدار ناظرین کا ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جسکی بدولت مستقبل میں اچھی فلمیں تخلیق ہو سکیں۔

آج اگر آپ پنجاب سینما آرٹ سوسائٹی کی پُرانی فائیلیں کھنگالیں تو عہدِے داروں کی فہرست میں صرف ایک مسلمان نام نظر آتا ہے ( ایم۔ ایس۔ ڈار) البتہ سوسائٹی کے سرپرستوں میں سر چھوٹورام، ڈاکٹر گوکل چند نارنگ اور سر منوہر لال کے ساتھ ساتھ وزیرِخزانہ سر سکندر حیات ( سرپرستِ اعلٰی)، چوہدری شہاب الدین، احمد یار دولتانہ اور حکیم احمد شجاع کے نام بھی نظر آتے ہیں۔

News image
تقسیم سے پہلے رضا میر ایک فلمی ہیرو تھے

پنجاب سینما آرٹ سوسائٹی کی جو کارروائیاں ریکارڈ میں محفوظ ہیں انھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فلم آرٹ کی خِدمت اور فلم کلچر کے تحفّظ اور ترویج کا اعلٰی مقصد آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا گیا اور یہ سوسائٹی عملاً تعلقاتِ عامہ کی ایک ایسی کمیٹی بن گئی جسکا کام کلکتے اور بمبئی سے آنے والے فلمی ستاروں کا شاندار خیرمقدم کرنا اور اُن کے ورائٹی شو منعقد کرانا تھا، لیکن 1930 کے عشرے میں ایسی فلم سوسائٹی کا وجود میں آجانا ہی بڑی بات تھی جسکے سرپرستوں میں سیاست اور ادب کے عمائدین شامل ہوں۔

ان دنوں اخبارات کا رویہ فلم والوں کے حق میں خوشگوار نہیں تھا اور بڑے سے بڑے فلمی واقعے کی خبر بھی اخبار میں جگہ نہیں پاتی تھی چنانچہ فلم والوں نے خود اپنے اخبارات و جرائد شروع کرنے کی ٹھانی اور یوں سن تیس کے عشرے میں لاہور کی فلمی صحافت کا آغاز ہوا۔

اس سلسلے کا پہلا جریدہ انگریزی میں شائع ہوا، نام تھا ’ سینما‘ اور ایڈیٹر تھے ڈی۔ڈی کپور لیکن ابھی تین ہی شمارے منظرِ عام پر آئے تھے کہ کپور صاحب ایک جان لیوا بیماری کی نذر ہو گئے اور رسالے کی طباعت اور ادارت کا فریضہ بودھ راج اوبرائے نے سنبھال لیا۔ انھوں نے کئی برس تک یہ فلمی رسالہ کامیابی سے چلایا۔

1933 میں لاہور کے تین نوجوانوں نے ہفت روزہ Movie Critic شروع کیا اور اس کے ایک سال بعد لاہور سے اُردو کا پہلا فلمی رسالہ شائع ہوا، نام تھا
’ اداکار ‘۔ اسکے ناشر اور ایڈیٹر تھے عطا اللہ شاہ ہاشمی۔ 1938 میں اسے ہفت روزہ کر دیا گیا اور یہ بیس برس تک کامیابی سے شائع ہوتا رہا۔

News image
کامیاب کمرشل فلم سازوں کے جدِ امجد، بی آر چوپڑا

اس زمانے میں لاہور سے اور بھی بہت سے فلمی جرائد شروع ہوئے جن میں ایم ۔ ایس ڈار کا تصویری ماہنامہ’ فلم پکٹوریل‘ ای۔ پی بیری کا ’ فلم ورلڈ‘ بشیر ہندی کا ’ فلمستان ‘ اور بھاٹیا کا ’ چترا‘ شامل ہیں، لیکن ہماری دلچسپی کا مرکز اس زمانے کا معروف رسالہ ’ سینما ہیرلڈ‘ ہے کیونکہ اسے لاہور کے فلمی صحافی بی ۔ آر ۔ چوپڑا ایڈیٹ کرتے تھے جو قیامِ پاکستان کے بعد بمبئی چلے گئے تھے اور وہاں اُُس فلمی سلطنت کی بنیاد رکھی جس کی سرحدیں اُن کے چھوٹے بھائی یش چوپڑا اور بھتیجے آدیتہ چوپڑا نے ہندوستان کے کونے کونے تک پھیلادی ہیں۔ برِ صغیر کی تاریخ میں دس برس تک مسلسل چلنے والی فلم ’دل والے دلہنیا ....‘ چوپڑا خاندان کا دیا ہوا ایک ایسا تحفہ ہے جو ہندوستانیوں کے دل پر نقش ہو چکا ہے ---- بالکل اُسی طرح جیسے بی ۔ آر ۔ چوپڑا کے دل پہ لاہور کی یادیں نقش ہیں۔

(جاری ہے)

66لالی وڈ: کل اور آج
’شیریں فرہاد‘ پنچولی کے زوال کا سبب بنی
66فلم میں آواز کی آمد
باآواز فلموں کی ابتدا، لالی ووڈ: کل اور آج (4)
66ایک دل بیتی کہانی
’ہوک‘ دل سے اٹھنے والی آواز کی روداد ہے۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد