BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 September, 2005, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالی وڈ آج اور کل، قسط 11

 علاؤ الدین
علاؤ الدین فلم پھیرے میں
1947 سے 1950 تک کا زمانہ پاکستان کی نوزائیدہ فلم انڈسٹری کے لیے شدید بحران کا زمانہ تھا۔ 1948 میں صرف ایک فلم ریلیز ہوئی جسکی ناکامی کا مفصّل احوال آپ نے پچھلی نشست میں سُن لیا تھا۔

’ تیری یاد ‘ کے بعد 1949 میں شاہدہ، ہچکولے، سچائی، غلط فہمی اور مُندری نام کی فلمیں ریلیز ہوئیں اور سب کی سب ناکام رہیں لیکن اُسی برس تین اگست کے دِن لاہور کے پیلس سنیما میں ایک ایسی فلم نمائش کے لیے پیش ہوئی جِس نے پاکستانی فلم انڈسٹری کی سوکھی کھیتی پر گویا بارانِ رحمت کا کام کیا۔

فلم تھی ’ پھیرے‘ اور اسکے روحِ رواں تھے اداکار ہدایت کار اور فلم ساز نذیر جنھوں نے اپنےکیرئر کا آغاز خاموش فلموں کے دور میں لاہور ہی سے کیا تھا لیکن بعد میں بمبئی منتقل ہو گئے تھے۔ تقسیم کے بعد جب نذیر پھر سے لاہور آگئے تو اُن کی تجربہ کار نگاہوں نے بھانپ لیا کہ اگر صرف پاکستان کی مارکیٹ کو مدِ نظر رکھ کر فلم بنائی جائے تو کاروباری سطح پر یہ محض نقصان کاسودا ہوگا چنانچہ انھوں نے ہندوستان کی کمرشل ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا اور ایک ایسی کہانی منتحب کی جو ہندو کرداروں کے گرد گھومتی تھی۔

فلم پھیرے کی کہانی میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی بلکہ یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ وہ ایک بالکل فارمولا کہانی تھی لیکن کم از کم کمرشل ضروریات پر پوری اُترتی تھی۔

نذیر گاؤں کا ایک غریب لیکن منچلا نوجوان ہے اور اپنے دوست نذر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہا ہے مگر گاؤں کے میلے میں جب مینڈھوں کی لڑائی ہوتی ہے تو اسکا مینڈھا چوہدری کے مینڈھے کو شکست دے دیتا ہے اور چوہدری اس ہتک کا بدلہ لینے کے لئے نذیر کو گاؤں بدر کروا دیتا ہے۔

اسماعیل
ایم اسماعیل زمیندار کے رول میں

کہانی کا یہ ابتدائی حصّہ غالباً کرداروں کے تعارف اور کامیڈی مناظر کی کھپت کے لئے تیار کیا گیا ہے کیونکہ اصل کہانی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب نذیر اور اُسکا دوست ایک نئے گاؤں میں رہنا شروع کر دیتے ہیں ۔ وہاں کے چوہدری کا بیٹا علاؤالدین ہے اور بیٹی سورن لتاہے جس کی مصاحبت میں ایک کزن ٹائپ کی لڑکی ہمہ وقت موجود رہتی ہے تاکہ جب نذیر کی محبت سورن لتا سے شروع ہو تو نذیر کے دوست ( نذر) کو بھی محبت کے لیے ایک لڑکی میسّر ہو اور یوں فلم میں دو جوڑوں کی کہانی کو ساتھ ساتھ چلایا جا سکے۔

پاکستان میں بننے والی اوّلین پنجابی فلم کے لئے شاید یہ ممکن بھی نہیں تھا کہ وہ ہیر ۔ رانجھے، کیدو کی ازلی تکون سے دامن بچا سکے یا سہتی مُراد کے ذیلی قصّے سے استفادہ نہ کرے۔

چنانچہ ہیروئن کا بھائی (علاؤالدین) ایک کیدو بن کر اپنی بہن کی نگرانی شروع کر دیتا ہے اور اسے نذیر سے ملنے نہیں دیتا۔ وِلن کی کمینگی میں اضافے کے لئے یہ بھی دکھایا ہے کہ وہ ہمسایہ گاؤں کے ایک بڑے زمیندار سے (ایم اسماعیل) سے پیسے اُدھار لیتا ہے اور پھر احسان کا بدلہ چُکانے کے لئے بہن کی شادی اسی زمیندار سے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے، چونکہ لڑکی جوان ہے اور زمیندار اسے ایک میلے میں دیکھ کر اس پر فریفتہ بھی ہو چکا ہے اس لئے پھیروں کی تیاری شروع ہو جاتی ہے لیکن عین پھیروں کے دِن ہیروئن کی جگہ اسکی سہیلی، کزن یا منہ بولی بہن ، جو کچھ بھی وہ ہے ( اداکارہ زینت) اسےگھونگھٹ میں بٹھا کر زمیندار کے ساتھ اسکے پھیرے کر دیے جاتے ہیں۔

ہماری نسل نے مشترکہ ہندو مسلم معاشرت کا زمانہ تو نہیں دیکھا لیکن بھارتی فلموں کے ذریعے پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ شادی کے وقت دُلہا اور دُلہن کو مقدس آگ کےگِرد سات چکر لگانے پڑتے ہیں۔گویا جس طرح ہمارے یہاں نکاح کی رسم ہے اسی طرح ہندوں میں پھیروں کی رسم ہے۔

بہر حال پھیرے ہونے کے بعد جب گھونگھٹ میں لپٹی غلط لڑکی زمیندار کے گھر پہنچتی ہے تو خود ہیروئن بھی بہن کے طور پر اسکے ساتھ جاتی ہے ۔۔ جیسا کہ رواج ہے۔

سسرال پہنچ کر اگرچہ دونوں لڑکیاں اپنے اپنے اصل کردار میں واپس آجاتی ہیں لیکن ہیروئن گھونگھٹ میں لپٹی ہر وقت کھانستی رہتی ہے گویا ازل سے بیمار ہو۔ یہاں پر ایک مرتبہ پھر ہیر کا وہ دور یاد آتا ہے جب وہ شادی کے بعد سیدے کھیڑے کے گھر آچکی ہے لیکن اسے اپنا جسم نہیں چھونے دیتی۔

فلم پھیرے کا انجام البتہ ہیر والا نہیں ہے کیونکہ زمیندار کے دِل میں آخر کار انسانیت جاگ اُٹھتی ہے اور وہ دونوں پیار کرنے والوں کو آپس میں ملوا دیتا ہے ۔۔ بلکہ اُن کے پھیرے کروا دیتا ہے۔

تو جیسا کہ آپ نے دیکھا، کہانی میں کچھ بھی نیا نہیں تھا لیکن اداکار نذیر کا جذبہ ضرور نیا تھا اور فلم سازی کی اُمنگ بھی جوان تھی۔

یہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جس نے ایک پرنٹ کے ساتھ ایک ہی سینما میں سلور جوبلی کی۔ ہماری فلمی دیو مالا میں پھیرے کی موسیقی کے متعلق یہ قصّہ ابھی تک مشہور ہے کہ اسکے سارے گانے موسیقار چشتی نے ایک ہی دِن میں ریکارڈ کر لیے تھے۔

لاہور کا قدیم ترین سینما گھر
لاہور کے شیخ عزیزالدین نے آج سے 97 برس پہلے یعنی 1908 میں اندرونِ شہر ایک تھیٹر ہال تعمیر کیا جہاں ڈرامے سٹیج کئے جاتے تھے۔ مالک کے نام کی مناسبت سے یہ ہال عزیز تھیٹر کہلاتا تھا۔ چند برس بعد خاموش فلموں کا دور شروع ہو گیا چنانچہ 1915 میں اسے ایک سینما ہال قرار دے کر اسکا نام جوبلی تھیٹر رکھ دیا گیا لیکن جب بولتی فلموں کا زمانہ آیا تو ایک بار پھر اسکا نام بدل کر ’ تاج محل ٹاکیز ‘ کر دیا گیا۔1947 میں تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی اسکا نام پاکستان ٹاکیز رکھ دیا گیا ۔ آج بھی یہ سینما اسی نام سے قائم و دائم ہے اور گزشتہ ساٹھ ستر برس کے دوران اسکے ارد گرد ہیرا منڈی آباد ہو چُکی ہے۔

بابا چشتی نے آخری آیام میں ایک انٹرویو کے دوران وضاحت کی تھی کہ تمام گانوں کی طرزیں تو ایک ہی دِن میں تیار ہو گئی تھیں لیکن ریکارڈنگ میں تین دِن لگ گئے تھے۔ بہر حال چار دِن میں کسی فلم کا مکمل میوزک تیار ہو جانا بھی ایک ریکارڈ ہے! لیکن اصل خوبی یہ ریکارڈ نہیں بلکہ گانوں کا وجد آفرین تاثر ہے۔ ہر گانا اپنی جگہ کمال کا گانا ہے ۔

ہیرو اور ہیروئن کی محبت شروع ہوتی ہے تو یہ گانا سُنائی دیتا ہے:

ساہنوں رب دی سونہہ تیرے نال پیار ہو گیا
وے چنا سچی مچی
اکھاں لگیاں تے دل بےقرار ہو گیا
وے چنا سچی مچی

ابھی ناظرین اسی گانے کے سحر سے نہیں نکل پاتے کہ ایک اور ہِٹ گانا اُن کی سماعت کو چھوتا ہے:

اکھیاں لاویں نہ
فیر پچھتاویں نہ

جب امیر زمیندار ہیروئن کی ڈولی لیکر روانہ ہوتا ہے تو ہیرو ایک عاشق زار کی تصویر بنا پیچھے پیچھےگاتا ہوا آتا ہے :

جے نئیں سی پیار نبھانا
ساہنوں دس جا کوئی ٹھکانا
نی ساہنوں دس جا کوئی ٹھکانا!

جیسا کہ بابا چشتی کے انٹر ویو سے ظاہر ہوا اس فلم کی موسیقی انتہائی کس مپرسی کے عالم میں ریکارڈ کی گئی کیونکہ نہ تو عنایت حسین بھٹی کے سوا پاٹ دار آواز والا کوئی سنگر موجود تھا اور نہ ہی ریکارڈنگ کا مناسب سازو سامان تھا۔

اِن مشکلات کے باوجود اس فلم کے تمام گانے ہِٹ ہوئے اور خود فلم تو سُپر ہٹ ہوئی۔۔ نہ صرف پاکستان میں بلکہ ہندوستان میں بھی جہاں اسکے تقسیم کار سورن لتا کے بھائی تھے۔

اگر آپ فلم کے ٹائٹل پڑھیں تو فلم ساز کے خانے میں آپکو ایک خاتون کا غیر مانوس سا نام نظر آئے گا: سعیدہ بانو۔ اصل میں یہ سورن لتا کا اسلامی نام ہے کیونکہ انھوں نے نذیر سے شادی کر لی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد