ایرانی فلمیں لاہور میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ایک پہر دِن چڑھے ہم عازمِ نمائش گاہ ہوئے جہاں تصاویر انواع و اقسام کی ہمارے دیکھنے کو آویزاں تھیں۔۔۔ بعد ازاں ہمیں عمارت کے اس گوشے میں لے جایا گیا جسے حیرت کدہ کہیئے تو بے جا نہ ہوگا۔ وسط میں اس کمرے کے ایک بڑا پردہ سفید تان دیا گیا اور پھر کمرے میں روشن برقی قمقمے بجھا دیئے گئے۔ اب اس ’کَل‘ (مشین) میں سے کہ پروجیکٹر کہلاتی تھی، ایک دھار سفید روشنی کی نمودار ہوئی اور سفید پردے پر صحرائے عرب کا منظر نمودار ہوا جس میں بدو لوگ اونٹوں پر سوار محوِ سفر تھے۔ یہ تصاویر بطریقِ سینما ٹوگراف تیار کی گئی تھیں اور ہم انھیں دیکھ کر انتہائی محظوظ و مُتحیّر ہوئے۔‘ یہ اقتباس ایران کے فرماں روا مظفرالدین شاہ کے روزنامچے سے لیا گیا ہے اور اس پر 13جولائی 1900 کی تاریخ درج ہے جب شاہِ ایران یورپ کے اوّلین دورے پر گئے تھے اور فلم دیکھنے کا یہ منظر پیرس میں پیش آیا تھا۔ جیسا کہ بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے، مظفرالدین شاہ نے اپنے شاہی فوٹو گرافر مرزا ابراہیم خان عکاس کو حکم دیا کہ فلم سازی کا تمام سازوسامان فوری طور پر خریدا جائے تاکہ ایران واپس جا کر وہ بھی شاہی محل اور درباریوں کی فلم بنا سکیں۔ اور اسطرح شاہی سرپرستی میں آج سے سو برس پہلے ایران میں فلم سازی کا آغاز ہوا۔ 1930 کے عشرے میں تفریحی مقاصد کے تحت فلمیں بننی شروع ہوئیں اور سینما گھروں کا رواج بھی اسی زمانے میں پڑا۔ 1960 کے عشرے میں شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کی سرپرستی میں نئے فلم سٹوڈیو تعمیر ہوئے اور غیر ملکی فلموں کو فارسی میں ڈب کرنے کے لئے جدید سازوسامان درآمد کیا گیا۔ ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے غیر ملکی فلموں کو فارسی میں ڈب کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔
1964 میں ایران کی پہلی فلم اکیڈمی کھُلی جہاں گزشتہ 40 سال کے دوران بہت سے فلمی مصّنفوں، ہدایتکاروں اور تکنیک کاروں نے تربیت حاصل کی ہے۔ انھی تربیت یافتہ لوگوں میں ڈاکٹر محمد شہبا بھی شامل ہیں جن کی بنیادی تربیت تو ایک فلم ایڈیٹر کے طور پر ہوئی تھی لیکن بعد میں انھوں نے سکرپٹ رائٹنگ اور ڈائریکشن کی تربیت بھی حاصل کی۔ وہ فلم تکنیک کے موضوع پر چالیس کتابوں کا ترجمہ فارسی میں کر چکے ہیں اور آج کل فلم آرٹ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں انھوں نے ایرانی فلموں کی جِس نمائش کا اہتمام کیا وہ اس لحاظ سے منفرد تھی کہ ہر فلم سے پہلے وہ اسکا تفصیلی تعارف کراتے تھے، اور فلم دکھانے کے بعد حاضرین کے سوالات کے مفصّل جواب بھی دیتے تھے۔ انھیں ذاتی طور پر ہدایتکار مخمل باف کی ’ ناصرالدین شاہ: اکتورِ سینما‘ بہت پسند ہے۔ یہ فلم عالمی حلقوں میں اپنے انگریزی نام سے معروف ہے یعنی:
ہدایتکار مخمل باف نے اس فلم کا خام مواد مرزا ابراہیم خان عکاس کی زندگی سے حاصل کیا تھا، جو کہ واقعی ایک شاہی عکاس تھا۔ بادشاہ کی، فلم آرٹ سے جو دلچسپی دکھائی گئی ہے وہ دراصل خود مخمل باف کے عشقِ فلم کی غماز ہے۔ یہ فلم کئی بین الاقوامی میلوں میں انعامات حاصل کر چکی ہے اور اہلِ لاہور نے بھی اسے کُھل کر داد دی ہے۔
لاہور میں دکھائی جانے والی ایک اور فلم ’نامہء نزدیک‘ ہے جو کہ اپنے انگریزی نام Close up کے تحت امریکہ، یورپ اور سکینڈے نیویا میں دکھائی جا چکی ہے۔ اس کہانی کا پس منظر بھی عجیب ہے: ایران میں ایک شخص خود کو ہدایتکار مخمل باف کے طور پر پیش کرتا ہے اور کئی روز تک مخمل باف کے مداحوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ آخر شک پڑنے پر پولیس کو مطلع کیا جاتا ہے اور یہ جعلی مخمل باف گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا جاتا ہے۔ عدالت میں یہ شخص اعتراف کرتا ہے کہ اس نے دھوکہ دیا تھا لیکن اس کی نیت ٹھیک تھی اور وہ محض چند روز تک شہرت اور عزت کا لطف اُٹھانا چاہتا تھا جو کہ اسے زندگی بھر نصیب نہیں ہوئی تھی۔ عدالت مُدّعی کی منشاء کے مطابق ملزم کو معاف کر دیتی ہے اور جب وہ رہا ہو کر حوالات سے باہر آتا ہے تو وہاں اصلی مخمل باف اُس سے ملاقات کے لئے موجود ہے۔ پھر دونوں اس گھر میں جاتے ہیں جہاں جعلی مخمل باف کئی روز تک مہمان بن کے پڑا رہا تھا ۔۔۔ اور یوں یہ فلم ہنسی خوشی کے ایک منظر پہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس فلم کی بُنیادی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی اداکار نہیں ہے بلکہ اُن اصل لوگوں نے کام کیا ہے جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ عدالت کی کارروائی بھی اصلی ہے اور عدالت کی اجازت سے پیشی کے روز اسکی فلم بندی کی گئی تھی۔
مخمل باف کے علاوہ سن 80 اور 90 کی دہائیوں میں دو اور بڑے نام بھی ہمارے سامنےآتے ہیں۔ عباس کیا رُستمی اور جعفر پناہی۔ یہ تینوں نوجوانی کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ایرانی سینما کو عالمی سطح پر متعارف کرانا اِن کا پرانا مشن تھا جو کہ اب بخیروخوبی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ لاہور میں ایرانی فلموں کی نمائش کے موقعے پر ایرانی ماہرِ فلم ڈاکٹر محمد شہبا نے بتایا کہ ایران میں ہر برس 80 کے قریب فیچر فلمیں بنتی ہیں، اِن کے علاوہ بچوں کے لئے بھی سات آٹھ فلمیں تیار کی جاتی ہیں اور اتنی ہی فلمیں خاص طور پر عالمی میلوں میں نمائش کےلئے بھی بنائی جاتی ہیں جو کہ ’فیسٹیول فلمیں‘ کہلاتی ہیں۔ اگرچہ فیچر فلموں کی پروڈکشن پرائیویٹ سیکٹر میں ہوتی ہے لیکن حکومت فلم سازوں کو آسان قرضے مہیّا کرتی ہے، خام فلم بہم پہنچاتی ہے اور تکنیکی سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے۔ محسن مخمل باف، عباس کیا رستمی اور جعفر پناہی جیسے مشاہیرِ فلم کے بعد اب ایرانی فلم سازوں کی ایک نئی پود تیار ہو چکی ہے جو اس روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ نوجوان مصّنف اور ہدایتکار ابوالقاسم طالبی کی نئی فلم ’بچپن کا جھگڑا‘ حال ہی میں نمائش کے لئے پیش ہوئی جس میں عراق کے ایک دیہاتی لڑکے کی داستان بیان کی گئی ہے۔ بارہ سالہ علی کا سارا خاندان امریکی بمباری کے دوران ہلاک ہو چکا ہے اور بچ نکلنے والے دیہاتی اپنا تباہ شدہ آبائی گاؤں چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں فرار ہو چکے ہیں۔ علی کو خبر ملتی ہے کہ اسکا شِیرخوار بھائی بمباری میں بچ گیا تھا ۔۔۔ چنانچہ علی اپنے ایک سالہ بھائی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے ۔۔۔ اور یہ ساری فلم اسی تلاش پر مبنی ہے۔
اس سے پہلے ابوالقاسم طالبی اپنی فلم ’افغان دلہن‘ پر بھی دنیا بھر سے داد وصول کر چکے ہیں۔ لاہور کی نمائش میں پیش ہونے والی فلم Secret Ballot کو خواتین نے خاص طور پر پسند کیا۔ اس میں ایران کا ایک دور افتادہ علاقہ دکھایا گیا ہے جہاں عورتیں پہلی بار ووٹ کا حق استعمال کر رہی ہیں۔ اس فلم کے مصنف اور ہدایتکار بابک پیامی ہیں لیکن جس فلم نے سب سے زیادہ داد وصول کی وہ عباس کیا رُستمی کی فلم ’10‘ تھی۔ یہ ساری کی ساری فلم ایک کار کے اندر ڈیجیٹل کیمرے سے تیار کی گئی ہے اور بعد میں اسے35 ایم ایم پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ کار میں وقفے وقفے سے سوار ہونے والے مسافروں کی کہانیوں کے ذریعے ایرانی معاشرے کے مختلف رُخ بے نقاب کئے گئے ہیں۔ فلم ’10‘ کو دیکھ کر اس عمومی تاثر کی بھی نفی ہوتی ہے کہ ایران میں فلموں پر سخت سینسر شپ عائد ہے اور معاشرے کے بُرے پہلوں پر تنقید کی اجازت نہیں ہے۔ اس فلم میں مرکزی کردار ایک ایسی عورت کا ہے جو اپنے شوہر سے الگ ہو کر آزادانہ زندگی گزار رہی ہے اور اسکا نو سالہ بیٹا اس سے باغی ہو چکا ہے۔ اس کار کے مختلف مسافروں میں ایک طوائف بھی ہے جو شادی شدہ عورتوں کو ’بے وقوف‘ کہہ کر اُن کا مذاق اُڑاتی ہے اور انھیں مردِ واحد کی غلامی کا طعنہ دیتی ہے۔ |
اسی بارے میں عراق پر ایرانی فلم کو ایوارڈ 25 September, 2004 | فن فنکار صدام کے بعد کی عراقی فلم10 January, 2005 | فن فنکار کارا فلمی میلے میں کون جیتا14 December, 2004 | فن فنکار ایران میں کوئین ایلبم25 August, 2004 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||