مکیش اور سنجے گھر پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیکب آباد کی ایک عدالت نے جمعہ کو ایک سو نو روز تک لا پتہ رہنے والے صحافی مکیش روپیٹا اور کیمرہ مین سنجے کمار کی ضمانت پر رہائی کا حکم سنایا ہے۔ وکیل اشوک کمار نے ٹیلیفون پر بتایا کہ سول جج قیصر علی خان نے پچیس ہزار روپے زرِ ضمانت کے عوض رہائی کا حکم دیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد مکیش روپیٹا اور سنجے کمار اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ سنجے اور مکیش کو مارچ میں کراچی سے چار سو کلومیٹر دور جیکب آباد میں شہباز ایئر بیس کی فلم بنانے پر مارچ میں تحویل میں لیا گیا تھا۔ اس وقت ایئر بیس پر پاکستانی اور امریکی افواج کی مشقیں جاری تھیں۔ افغانستان پر حملے کے وقت یہ ایئر بیس امریکہ کے استعمال میں تھا۔ دونوں صحافی ساڑھے تین ماہ غائب رہنے کے بعد بدھ کی رات کو برآمد ہوئے تو ایئر پورٹ پولیس نے ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت بھی مقدمہ درج ہوا۔ مکیش روپیٹا کے بھائی گھن شام نے بتایا کہ مکیش روپیٹا ’کافی کمزور اور دبلے‘ دکھائی دے رہے تھے۔ حکام کی جانب سے اذیت کے الزام کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ مکیش روپیٹا اور کیمرہ مین جیو ٹی وی کے لیے کام کرتے تھے لیکن اس ٹی وی چینل نے ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع گزشتہ پیر تک نہیں دی تھی۔ بدھ کو جی او ٹی وی نے ایک بیان جاری کرکےکہا تھا کہ مکیش روپیٹا کو کسی الزام کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ہم خوف کےمارے چپ رہے‘22 June, 2006 | پاکستان گمشدہ صحافی، کیمرہ مین ’برآمد‘22 June, 2006 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان صحافی کے قتل پر احتجاج جاری20 June, 2006 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات18 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||