تلخ تجربہ تھا، مکیش روپیٹا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یہ زندگی کا سب سے تلخ تجربہ تھا‘، یہ الفاظ تھے مکیش روپیٹا کے جو انہوں موبائل فون کے ذریعہ جیکب آباد میں سول ہسپتال کے لاک اپ سے اپنی تین ماہ پندرہ روز یا 109 دن کی گمشدگی اور پھر گرفتاری کے بارے میں کہے۔ مکیش اور ان کے کیمرا مین سنجے کمار عدالتی حکم پر پولیس کی تحویل میں دیئے جانے کے بعد ہسپتال لائے گئے تھے جہاں پولیس نے انہیں لاک اپ میں قید کر دیا ہے۔ مکیش اور سنجے کو مارچ کی پانچ تاریخ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ سنجے کو تو ایئر پورٹ کے قریب سے ان کے کیمرا سمیت حراست میں لے لیا گیا تھا جبکہ مکیش کو پوچھ گھچ کے لیئے تھانے طلب کیا گیا تھا جہاں سے بقول مکیش ’چہرے پر کپڑا ڈال کر انہیں اور ان کے کیمرا مین سنجے کمار کو نا معلوم مقام پر لے جایا گیا تھا‘۔
مکیش روپیٹا اور کیمرا مین سنجے کمار پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل ’جیو‘ کے لیئے کام کرتے ہیں لیکن ایئر پورٹ والے کام کی انہوں نے ’جیو‘ سے اجازت نہیں لی تھی۔ ’میں شہر میں ہونے والے پراسرار دھماکوں کے سلسلے میں ایک رپورٹ تیار کرنا چاہتا تھا جس کے لیئے اڑتے ہوئے جہازوں کی فلم کی ضرورت تھی۔ میں نے کیمرا مین سے کہا تھا کہ شہر کی کسی اونچی عمارت سے اڑتے ہوۓ جہاز کی فلم بنا لو، وہ شہباز ائیر بیس کی فلم بنانے چلے گئے ۔ بس پھر کیا تھا، ہمیں اپنی زندگی کے تلخ تربن تجربہ سے گزرنا پڑ رہا ہے‘۔ شہباز ائیر بیس پر ان دنوں پاکستانی، امریکی اور دیگر ممالک کی افواج مشقوں میں مصروف تھیں ۔ حساس ادارے زیادہ ہی حساس ہوئے ہوئے تھے ۔ جیو کی انتظامیہ ہی کیا، مکیش کے ساتھ کام کرنے والے صحافی اور ان کے گھر والے بھی شہباز ائیر بیس پر ان کی طلبی، پھر گمشدگی پر لب کشائی کے لیئے تیار نہیں تھے۔ سب لوگوں نے پانچ مارچ سے انیس جون تک چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ پاکستان میں بیشتر صحافی حلقے مکیش روپیٹا اور سنجے کمار کی گمشدگی سے لا علم تھے ۔ صوبہ سرحد کے نوجوان صحافی حیات اللہ کی چھہ ماہ کی گمشدگی کے بعد پرتشدد موت کی خبروں کے نتیجے میں جب لندن سے بی بی سی اردو سروس کے جعفر رضوی نے معلومات جمع کرنا چاہیں تو بھی مکیش کے بھائی ڈاکٹر گھنشام جیو والوں کی اجازت کے بغیر گفتگو کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ صحافی تو ان کی گمشدگی سے لا علم تھے لیکن سینٹ کے چئرمین محمد میاں سومرو آگاہ تھے۔ سینٹ کے چئرمین محمد میاں سومرو کی والدہ بیگم سعیدہ سومرو بھی ان کے ضلع کے ایک اہم صحافی کی ’گمشدگی‘ سے آگاہ تھیں ۔ وہ ضلع ناظم کے اہم ترین عہدے پر فائز ہیں ۔ مکیش کے گھر والوں نے ان کی گمشدگی کی تحریری شکایت بھی نہیں کی تھی اس لیئے ہما شما نہیں بلکہ اہم ترین افراد بھی کوئی احتجاج تو کجا، ذکر کرنے پر بھی آمادہ نہیں تھے ۔ لندن سے بی بی سی نے جب ادھر ادھر سے معلومات جمع کرنا شروع کیں تو انیس جون کو ’جیو‘ نے مکیش کی گمشدگی کے بارے میں وزیر اطلاعات محمد علی درانی سے کیئے گئے سوالوں کے جوابات نشر کئے تو عام لوگوں کو معلوم ہوا کہ مکیش اور سنجے گمشدہ ہیں۔ پھر ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے جلسے جلوس نکالے اور ’مکیش کو ظاہر کرو‘ کے نعرے بلند کیئے۔ 21 جون کو رات گۓ، بقول مکیش، جس تھانے سے انہیں چہرے پر کپڑا ڈال کر لے جایا گیا تھا، اسی طرح واپس لا یا گیا۔ لیکن بقول شخصے، 5 مارچ والے مکیش روپیٹا کو شناخت کرنا مشکل تھا۔ اسی وجہ سے مکیش کی والدہ 22 جون کو کمرہ عدالت میں جب اپنے بیٹے سے ملاقات کرنے آئیں تو روتے روتے عدالت کے فرش پر ہی گر کر بےہوش ہو گئیں۔ منڈا ہوا سر، چہرے پر بڑھی ہوئی بے ہنگم ڈاڑھی، کالی رنگت، دھنسے ہوئی آنکھیں، پچکے ہوۓ گال، لاغر جسم، ماں سے برداشت نہ ہو سکا کیونکہ ان کا مکیش تو گورے رنگ اور متوازن جسم کا مالک تھا۔ پولیس نے مکیش اور سنجے کے خلاف جو مقدمہ درج کیا ہے اس میں عدالت نے ان کا سات روز کا ریمانڈ دے کر انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ مکیش کی درخواست پر عدالت نے انہیں ہسپتال میں رکھنے کے لیئے حکم دیا تھا لیکن پولیس نے یہاں بھی لاک اپ میں رکھ دیا ہے۔ جہاں جمعرات کی رات گئے ملاقاتوں پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’ہم خوف کےمارے چپ رہے‘22 June, 2006 | پاکستان گمشدہ صحافی، کیمرہ مین ’برآمد‘22 June, 2006 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان صحافی کے قتل پر احتجاج جاری20 June, 2006 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات18 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||