قوم پرست جماعتیں، کارکن ’لاپتہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان میں پینتیس سے زیادہ سیاسی ورکز لاپتہ ہیں اور ان کی تنظیم ان لاپتہ ورکرز کی زندگی کے بارے میں تشویش میں ہے۔ کراچی میں بدھ کے روز سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نےسیاسی ورکز کی گمشدگی کو اغوا قرار دیا اور کہا کہ ان ورکرز میں اکثریت کا تعلق سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے ہے۔ اقبال حیدر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ان افراد کے خلاف شواہد اور الزامات موجود ہیں تو ان کو سامنے لایا جائے کیونکہ ملک کا قانون بلا ریمانڈ کسی کو حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اقبال حیدر کے بقول لاپتہ افراد میں جمہوری وطن پارٹی، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جئے سندھ متحدہ محاذ اور جئے سندھ قومی محاذ کے ورکرز بھی شامل ہیں۔ پریس کانفرنس میں لاپتہ افراد کے رشتہ دار اور سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔ منیر مینگل کے بھائی علی اکبر مینگل نے بی بی سی کو بتایا کہ منیر دبئی میں بلوچ وائس ٹی وی چینل کے ایم ڈی کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔چینل کے سلسلے میں وہ پیمرا کو درخواست دینے کے لئے چار اپریل کو بحرین سے کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو بقول ان کے ’انٹیلی جنس والے‘ ان کو اٹھاکر لئے گئے۔ اکبر مینگل نے بتایا کہ ہمیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی جارہیں کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے۔ ’اس اغوا پر جب ہم ایف آئی آر درج کروانے کے لئے تھانےگئے تو پولیس نے انکار کیا اور کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘ جئے سندھ متحدہ محاذ کے رہنما سلیم نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے ان کے آٹھ کارکن خادم چانڈیو،عبدالستار ہکڑو، نواز خان زنئور، محرم ملاح، ذوالفقار خاصخیلی، احمد خان تیونو، مظفر بھٹو اور سکندر سومرو لاپتہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کارکنان کو سندھ کے مختلف علاقوں سے ’خفیہ ادرے کے کارندے اغوا کرکے لے گئے ہیں، جن کا کوئی پتہ نہیں ہے۔‘ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شہزادہ ظفر جان نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی سے ان کے تین ساتھیوں کو ’اغوا‘ کیا گیا ہے، جن میں مرکزی نائب صدر سلیم بلوچ، مرکزی ڈپٹی سیکریٹری محمد سعید اور محمد سلیم شامل ہیں۔ شہزادہ ظفر کے مطابق ان کے ساتھیوں کے کا بلوچستان میں جاری آپریشن کے ساتھ تعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تینوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا ہے ’جبکہ سندھ کے تمام ارباب اختیار کو ہم نے درخواست دی ہے مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘ تربت سے لاپتہ بلوچ لکھاری ڈاکٹرحنیف شریف کی والدہ نسیمہ بلوچ نے بتایا کہ شریف کو اٹھارہ نومبر کو تربت کے ایک مقامی ہوٹل سے ’اغوا‘ کیا گیا تھا منگل کے روز اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی اخبارات میں خبر آئی ہے کہ حنیف بلوچ کو ایک ماہ کے لئے ایم پی او کے تحت قید رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل ان کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی فواد سمیع نے بتایا کہ ان کے بھائی فیصل سمیع گزشتہ پانچ ماہ سے لاپتہ ہیں۔فواد نے بتایا کہ انہیں بھی فیصل کے ساتھ گیارہ نومبر کو دکان سے سول ڈریس میں اہلکار ملیر کینٹ لے گئے جہاں بعد میں انہیں چھوڑا گیا تھا۔ فواد کے مطابق ’جب میں نے اہلکاروں سے جب پوچھا گیا کہ فیصل کو کیوں رکھا گیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ وہ زیر نگرانی ہے اور اسے بھی جلد رہا کیا جائیگا۔مگر آج تک وہ حراست میں ہیں۔‘ | اسی بارے میں انسانی حقوق کا احترام ضروری ہے 01 October, 2005 | پاکستان انسانی حقوق پر تشویش19 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||