BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 March, 2004, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی حقوق پر تشویش

پاکستان
پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن نے سال دو ہزار تین کے لئے اپنی سالانہ رپورٹ میں ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سِول سوسائٹی کے ادارے زیر عتاب رہے اور جمہوری حکومت کے قیام کے باوجود سیاسی آزادی نہیں ملی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر حکمرانی کا فقدان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔

انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ سال بھر پارلیمنٹ مفلوج رہی، زیادہ تر اختیارات صدر کے پاس رہے، حزبِ اختلاف کے رہنماؤں اور اراکین کو بڑے پیمانے پر ہراساں اور گرفتار کیا گیا۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے متعلق کمیشن کے چیئرمین طاہر محمد خان، سیکرٹری جنرل حنا جیلانی ، آئی اے رحمٰن ، کاملہ حیات اور افراسیاب خٹک نے یہ رپورٹ جمعہ کے روز مشترکہ پریس کانفرنس میں جاری کی۔

آئی اے رحمٰن نے کہا کہ عدلیہ مزید تباہ ہوئی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہواہے، فوجیوں کو زمین الاٹ کرنے سےنیا جاگیردارانہ طبقہ پیدا ہوگا، صنعتوں کے متعلق قانون ’ آئی آر او 2002‘ محنت کش طبقے کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے اور چار کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔

افراسیاب خٹک نے وانا میں جاری آپریشن کے دوران فوج کے طریقۂ کار اور کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں کا احترام نہیں کیا گیا ان پر تشدد کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

حِنا جیلانی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف سال بھر میں تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

کمیشن کے مطابق سن دو ہزار تین کے دوران دو ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی اور چھ سو خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں۔

اس کے علاوہ ساٹھ لاکھ بچے سکول جانے سے محروم رہے اور جنوری سے ستمبر تک تیرہ سو بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

سال دو ہزار دو اور دوہزار تین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے یا کمی کے سوال پر کمیشن کے چیئرمین طاہرمحمد خان نے کہا کہ صورتحال جوں کی توں رہی لیکن ایٹمی سائنسدانوں کی حراست، کوئٹہ میں فرقہ وارانہ قتل و غارت جیسے واقعات شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔

آئی اے رحمان نے صحافیوں پر تشدد اور میڈیا کی آزادی سلب کئے جانے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار تین میں صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا اور اظہار رائے کی آزادی کے قوانین پر عملدرآمد بھی نہیں کیاگیا ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات تک رسائی پر کنٹرول رکھا گیا اور کیبل آپریٹروں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پارلیمان نے عوامی فلاح کا کوئی بڑا کام نہیں کیا، سال بھر لیگل فریم ورک آرڈر کا بحران رہا جو حکومت نے متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے حل کرلیا ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہر تین سزا یافتہ قیدیوں میں سے ایک کو موت کی سزا ہوئی اور ملک بھر کی ستاسی جیلوں میں چوراسی ہزار قیدی ہیں جن میں سے چھ ہزار قیدی کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالتوں میں متعدد مقدمات التوٰ کا شکار ہیں، ججوں کی اسامیاں پر کرنے میں دیر اور دیگر عوامل کی وجہ سے عوام کو فوری انصاف نہیں مِل رہا۔

امن و امان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوّے افراد فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں مارے گئے اور ایک سو چھیالیس افراد نام نہاد مقابلوں میں مارے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ایگزٹ کرٹرول لسٹ‘ کو مخالفین کو ہراساں کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

کمیشن نے کہا کہ احمدیوں کی علیحدہ ووٹر لسٹیں بنائی گئیں۔

رپورٹ میں تعلیمی سہولیات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک سو پچھتر ممالک کی فہرست میں پاکستان ایک سو اڑتیس سے گر کر ایک سو چوالیسویں نمبر پر آگیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد