انسانی حقوق کا احترام ضروری ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ نام نہاد دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران بھی انسانی اور شہری حقوق سے متعلق ملکی اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات انہوں نے سنیچر کو سپریم کورٹ بار کونسل کی جانب سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قانون کی حکمرانی‘ کے موضوع پر منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ چاہے جرائم بیشہ افراد کے خلاف کارروائی ہو یا دہشت گردوں کے کسی گروہ کے خلاف اعلان جنگ، ہر صورتحال میں انسانی حقوق سے متعلق سوال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد ہوں یا نام نہاد دہشت گرد، ان کے شہری آزادی اور انسانی حقوق کو قوانین میں تحفط حاصل ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی گروہ کے خلاف ریاست اعلان جنگ کرتی ہے تو اس صورت میں ’جنیوا کنوینشن‘ کے جنگی قیدیوں کے بارے میں قوانین نافذ ہوتے ہیں اور آپریشن کرنے والوں پر ان کا احترام لازم ہے۔ واضح رہے کہ اکثر اوقات گوانتانامو بے میں قید افراد اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں سوال اٹھاتی رہی ہیں کہ ان کے انسانی حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شدت پسند ملکی ہوں یا غیر ملکی، قانون ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور کسی کو بھی ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر کوئی دہشت گرد ہتھیار پھینک دے اور پیش ہوجائے تو اس پر تشدد یا اسے ہلاک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائی کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا لیکن عراق اور افغانستان میں جاری امریکی اور ان کے اتحادیوں کی کارروایوں کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ اس دوران شدت پسندوں کے خلاف ماورائے قانون اقدامات نہیں کیے جاسکتے۔ چیف جسٹس نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے کردار کا ذکر کیا اور اسے سراہا۔ پاکستان میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی عوامی فورموں میں موجودگی اور ان سے خطاب کے بارے میں ضابطہ اخلاق موجود ہے اور ماضی میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ چیف جسٹس سیاسی معاملات کے بارے میں قانونی سوالات کے متعلق اپنا اظہار خیال کریں۔ سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں منعقد کردہ اس سیمینار میں اعلیٰ عدالتوں کے جج اور وکلاء بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔
سیمینار سے بھارت کے سینئر وکیل اشوک اگروال، برطانیہ کی یونیورسٹی کے پروفیسر جاوید رحمٰن، فلوریڈا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر دانش مصطفیٰ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے بھی چیف جسٹس کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے زور دیا کہ مہذب معاشروں میں قانون کی حکمرانی لازمی ہے اور اس سے جمہوری عمل کو بھی تقویت ملتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||