سربجیت کی سپریم کورٹ سے اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بم دھماکے اور بھارت کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت سزائے موت پانے والے سربجیت سنگھ کو سزا سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں درخواستیں دائر کرنے کے بعد ایڈوکیٹ رانا عبدالحمید نے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ میجر غلام عباس سمیت بعض سرکاری گواہوں کے بیانات میں متضاد باتیں کہی گئی ہیں جو کہ سربجیت کے حق میں جاتی ہیں۔ لیکن ان کے مطابق ٹرائل اور اپیلٹ کورٹس میں ان نکات پر غور نہیں کیا گیا اس لیے انہوں نے نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ لاہور کے دو تھانوں انارکلی اور غازی آباد جبکہ فیصل آباد کے تھانے کوتوالی میں جو بم دھماکوں کے مقدمات درج کیے گئے تھے یہ نظر ثانی کی درخواستیں ان کے بارے میں ہیں۔ جبکہ لاہور کے یکی گیٹ کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے اپیل مسترد کیے جانے کا تفصیلی فیصلہ ملنے کے بعد وہ نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ سربجیت سنگھ کے خلاف دائر کردہ چاروں مقدمات میں انہیں سزائے موت دی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے ان چاروں مقدمات میں اپیلیں مسترد کردیں اور ان کی سزائے موت بحال رکھی۔ سربجیت سنگھ سن انیس نوے سے پاکستان میں قید ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||