’ہمارے بچوں کو رہائی دلوائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ طور پر غلطی سے عبور لائن آف کنڑول عبور کرنے والے دو افراد کے خاندان والوں نے حکومت پاکستان اور صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی ہے کہ وہ انکی جلد بحاظت واپسی کو یقینی بنائیں۔ نویں جماعت کے طالب علم تیرہ سالہ محمد وقار اور انکے پھوپھی زاد بھائی تیس سالہ عبدالروف تیرہ دسمبر کو وادی لیپہ میں پاکستانی فوجی حکام کے مطابق مویشی چراتے ہوئے غلطی سے لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوگئے تھے جہاں پاکستانی فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج نے انکو حراست میں لے لیا۔ لیکن ا ن دو افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لائن آف کڑول عبور نہیں کی تھی بلکہ بھارتی فوج نے ان دو افرادکو اغوا کیا ہے۔ نویں جماعت کے طالب علم محمد وقار کے والد راجہ محمد اکبر خان کا کہنا ہے کہ' ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی ان کو اپنے بیٹے وقار اور بھانجے تیس سالہ عبدالرؤف کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت پریشانی اور تشویش میں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے گھر میں ایک کہرام کا سا سماں ہے ۔ میرا بیٹا نویں جماعت کا طالب علم ہے وہ چھوٹا بچہ ہے اسکےاسکول کھلے ہیں ۔ اس کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ اللہ جانے اس پر کیا بیتی ہوگی، اس کی والدہ رو رو کر نڈھال ہو رہی ہے اسکے بہن بھائی پریشان ہیں۔ ہمارے خاندان کے سب لوگ پریشان ہیں کہ ہمارے دو لڑکے بھارتی فوج کی حراست میں ہیں۔‘ راجہ محمد اکبر کا کہنا ہے کہ ’ان دونوں لڑکوں کا کوئی قصور نہیں ہے ۔انہوں نے لائن آف کنڑول عبور نہیں کی تھی بلکہ لائن آف کنڑول کے قریب اپنے علاقے میں مویشیوں کو چرا رہے تھے کہ بھارتی فوج نے انکو گرفتار کرلیا۔ تیرہ سالہ محمد وقار اور تیس سالہ عبدالروف کا تعلق مظفرآباد سے ساٹھ کلومیڑ کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع وادی لیپہ کے گاؤں گائی پورہ سے ہے۔ اگرچہ پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ یہ بچے غلطی سے لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے لیکن ان کے خاندان والوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے لائن آف کنڑول عبور نہیں کی تھی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی کابینہ کے سنیچر کے اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو بھارتی فوج نے قراداد کے الفاظ میں اغوا کیا ہے اور قراداد میں اس واقعہ کی مذمت کی گئی ہے۔ قرار داد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ اس قراداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان افراد کی رہائی اور انکی واپسی کے لیے اقدامات کریں۔ ادھر پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر بھارتی فوجی حکام کو فلیگ میٹنگ کی تجویزدی ہے اور ان کو دوسری جانب سے بھارتی فوج کے جواب کا انتظار ہے ۔ تاہم پاکستانی فوجی حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||