سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کے نامزد کردہ پانچ ججوں نے بدھ کے روز اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا ہے۔ ان سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حلف لیا اور حلف برداری کی تقریب میں تمام جج اور سینیئر وکلا بھی شریک ہوئے۔ پانچ نئے حلف اٹھانے والے ججوں میں تین مستقل جبکہ دو ایڈہاک جج شامل ہیں۔ نئے ججوں کے حلف اٹھانے سے جہاں مستقل ججوں کی منظور شدہ سترہ اسامیاں پر ہوگئی ہیں وہاں دو اضافی جج بطور ’ایڈہاک جج‘ بھی تعینات ہوگئے ہیں اور مجموعی طور پر ان کی تعداد انیس ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین سے جب اضافی ججوں کی تقرری کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس سے التوا کا شکار مقدمات کو جلد سے جلد نمٹانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت تیس ہزار کے قریب مقدمات زیر التویٰ ہیں۔ بدھ کے روز مستقل ججوں کے طور پر حلف اٹھانے والوں میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے سپریم کورٹ آنے والے جج راجہ فیاض احمد اور لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس اعجاز احمد اور سید جمشید علی شامل ہیں۔ جبکہ دو ایڈہاک ججوں کے طور پر حلف اٹھانے والوں میں جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری شامل ہیں۔ واضح رہے کہ جسٹس حامد علی مرزا محض ایک دن قبل یعنی تیرہ ستمبر کو مستقل جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||