| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس
بدھ کو حکومت نے سپریم کورٹ کے جج ناظم صدیقی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا ہے جو بدھ کی شام کو سترھویں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد کی جگہ اپنے عہدے کا انیس سو تہتر کے آئین کےمطابق حلف اٹھائیں گے۔ قانونی ذرائع کے مطابق اگلے چند روز میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے جج آئین کے تحت نیا حلف اٹھائیں گے کیونکہ اب تک وہ جنرل مشرف کے عبوری آئینی حکم نامہ کے تحت کام کررہے تھے۔ سترھویں آئینی ترمیم سے ایل ایف او کے تحت ججوں کی مدت ملازمت کی عمر میں اضافہ کو واپس لے لیاگیا ہے جس سے سریم کورٹ کے چار جج اور مختلف ہائی کورٹوں کے پانچ جج فوری طور پر ریٹائر ہوگۓ ہیں۔ دس ججوں کے ریٹائر ہونے سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی ترقی اور ریٹائرمنٹ کا ایک نیا باب کھل گیا ہے جس سے سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ فوری طور پر ریٹائر ہونے والے ججوں میں چیف جسٹس سپریم کورٹ شیخ ریاض احمد کے علاوہ سپریم کورٹ کے جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس شیخ رشید احمد، جسٹس قاضی محمد فاروق اور جسٹس کرامت بھنڈاری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس راجہ صابر اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس روشن عیسانی، جسٹس ایس اے سروانہ اور جسٹس زاہد قربان علوی اور جسٹس اشرف لغاری اور پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس رؤف خان لغمانی بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کے دو جج جسٹس تنویر احمد خان اور جسٹس سید دیدار شاہ بھی آئندہ چند دنوں تک ریٹائر ہونے والے ہیں۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناظم صدیقی کا سپریم کورٹ کا سینیئر ترین جج ہونا ایک متنازع معاملہ رہا ہے کیونکہ ان کے دو ساتھی ججوں جسٹس افتخار چودھری اور جسٹس فلک شیر نے صدر پرویز مشرف کو اپنے سینیئر ترین جج ہونے کے خطوط لکھ رکھے ہیں۔ جسٹس ناظم صدیقی چار فروری سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ ان کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ سپریم کورٹ میں جج بننے سے پہلے سندھ ہائی کورٹ کے جج تھے۔ سپریم کورٹ کے ایک اور جج افتخار چودھری اس بات کے دعوے دار تھے کہ وہ ناظم صدیقی سے زیادہ سینیئر ہیں۔ انہوں نے بھی چار فروری سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف لیا تھا لیکن انکا حلف شام کو اور ناظم صدیقی کا صبح کو ہوا تھا۔ جسٹس افتخار نے صدر مشرف کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ وہ جسٹس ناظم صدیقی سے زیادہ سینیئر جج ہیں کیونکہ وہ اس وقت بھی بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے جب ناظم صدیقی سندھ ہائی کورٹ کے صرف جج تھے۔ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہونے کا دعویٰ جسٹس فلک شیر نے بھی کیا ہوا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ستمبر سنہ دو ہزار تین کو صدر مشرف کے نام ایک خط لکھا تھا کہ وہ گیارہ مارچ انیس سو ستاسی کو لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر کیے گئے تھے اور اس اعتبار سے وہ جسٹس منیر احمد شیخ کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔ جسٹس فلک شیر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ لاہور ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج تھے انہیں سیاسی حکومتوں نے چیف جسٹس نہیں بنایا تاہم جب انہیں جنرل مشرف نے ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا اور بعد میں سپریم کورٹ لے آئے تو ان کی اصل سینیارٹی ان کے تقرر کے وقت سے بحال ہونی چاہیے جیسا کہ سول سروس اور فوج میں ہوتا ہے۔ جسٹس فلک شیر کو سات ستمبر سنہ دو ہزار دو میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے وہ ناظم صدریقی کے بعد سپریم کورٹ میں آئے تاہم ہائی کورٹ کے جج مقرر کیے جانے کی تاریخ کے اعتبار سے وہ سپریم کورٹ میں سینیئر ترین جج ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے معاون خاص شریف الدین پیرزادہ کی کوشش ہے کہ ان کے ساتھی اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کو براہ راست سپریم کورٹ کا جج بنادیا جائے اور دوسری طرف سینیٹر ایس ایم ظفر جنہوں نے متحدہ مجلس عمل اور جنرل مشرف کے درمیان سمجھوتہ کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کے وفاقی وزیر قانون اور پارلیمانی امور بننے کی خبریں گردش کررہی ہیں جس کا اثر لاہور کورٹ میں کی جانے والی ججوں کی تقرریوں پر ہوگا۔ دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس افتخار چودھری اور سینیئر جج جاوید بٹر کے سپریم کورٹ جانے کا امکان ہے جس کے بعد سید تصدق جیلانی سینیئر ترین جج ہونے کے اعتبار سے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنائے جا سکتے ہیں۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے جج اعجاز چودھری سینیٹر ایس ایم ظفر کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور ان کا نام بھی آئیندہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر زیر غور بتایا جاتا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں تو سترھویں آئینی ترمیم کے بعد جو تبدیلیاں آئیں گی وہ اپنی جگہ لیکن اس سے فی الحال وکلا کی حکومت کے خلاف وہ تحریک دم توڑ گئی ہے جس کی بنیاد اس بات پر تھی کے ججوں کی ملازمت کی عمر میں اضافہ واپس لیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||