’قاتل کو معاف نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقتول جمشید خان، جن کے قتل کے جرم میں برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو سزائے موت سنائی گئی ہے، کے چچا نے دبئی کے ایک تاجر کی طرف سے مرزا طاہر کو معاف کرنے کی صورت میں ان کے عزیزوں کو ملازمت کی پیشکش کو مکمل رد کر دیا ہے۔ ’رزق دینے والا اللہ ہے۔ دبئی تو کیا لندن میں بھی پورے خاندان کو ملازمتیں ملیں تو بھی اپنے بچے کے قاتل کو معاف نہیں کریں گے۔‘ یہ بات صحبت خان نے سنیچر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دبئی کے تاجر کی پیشکش کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے تاجر کی جانب سے کسی پیشکش سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تاحال کسی نے ان سے اس بارے میں رابطہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ ایک اخبار نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر انور بیگ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہیں دبئی کے ایک تاجر حسین عبدالرحمان نے مقتول کے اہل خانہ کو معافی کی صورت میں ان کے پچاس افراد کو دبئی میں ملازمت دینے کی پیشکش کی ہے۔ اس تاجر نے اطلاعات کے مطابق اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی مختار مائی کو بھی سکول چلانے کے لیے مالی مدد فراہم کی تھی۔ صحبت خان نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی تو وہ آخری لمحے پر بھی کسی لالچ کے بجائے خوف خدا کی وجہ سے فی سبیل اللہ مرزا طاہر کو معاف کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسمپرسی کی حالت میں اٹھارہ برس تک مختلف عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے لیکن اس وقت انہیں جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور کسی نے معافی کی بات نہیں کی۔ لیکن ان کے مطابق اب جب مرزا طاہر پر تمام عدالتوں میں مقدمہ ثابت ہوچکا تو ہر طرف سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری غریبی کا مذاق نہ اڑایا جائے اور عدالتی حکم پر فوری عمل کرتے ہوئے ملزم کو پھانسی دی جائے کیونکہ ہمارا بھی بچہ قتل ہوا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ مخیر حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہیں ان کے اہل خانہ کی فکر ہے۔ صحبت خان نے کہا کہ انہیں دولت کا لالچ نہیں ہے اور وہ اللہ کو یاد کرکے روزانہ اپنی محنت مزدوری سے حلال کی روٹی کما کر سکون کی نیند سوتے ہیں۔ جب ان سے کہا کہ اسلام کے مطابق تو اللہ تعالیٰ بدلہ لینے سے معاف کرنے والے کو زیادہ پسند کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اسلام میں یہ فرض نہیں ہے بلکہ مقتول کے ورثاء کو صوابدیدی اختیار دیتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے انیس دسمبر انیس سو اٹھاسی کو راولپنڈی سے اپنے گاؤں چکوال جانے کے لیے ٹیکسی کرائے پر لی اور راستے میں ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کو قتل کردیا۔ ملزم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مرزا طاہر پر جنسی تشدد کی کوشش کی اور جب انہیں پستول کے زور پر دھمکایا تو برطانیہ کی ریزرو فورس کے اہلکار اور جوڈو کراٹے جاننے والے مرزا طاہر سے ہاتھا پائی ہوئی اور اس دوران ڈرائیور اپنے پستول کی گولی سے قتل ہوگیا۔ مرزا طاہر ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف نے شہزادہ چارلس کی اپیل پر ان کی پھانسی پر عملدرآمد رواں سال اکتیس دسمبر تک روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ |
اسی بارے میں مرزا کا مقدمہ: حصہ دوم10 November, 2006 | پاکستان مرزا کا مقدمہ: حصہ اول10 November, 2006 | پاکستان طاہرکی پھانسی پرعمل درآمد ملتوی19 October, 2006 | پاکستان ’یکطرفہ کہانی شائع ہورہی ہے‘21 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟20 October, 2006 | پاکستان قصاص و دیت اور فوجداری نظام23 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||