’یکطرفہ کہانی شائع ہورہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی شہری طاہر مرزا کی سزائے موت پر چوتھی بار عملدرآمد معطل ہونے پر مقتول ٹیکسی ڈرائیور کے اہل خانہ نے گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مقتول ٹیکسی ڈرائیور کے والد عبدالغنی اور چچا صحبت خان نے جمعہ کو بی بی سی سے ملاقات میں کہا کہ جب سیشن کورٹ، لاہور ہائی کورٹ، شریعت کورٹ، سپریم کورٹ، شرعی اپیلٹ کورٹ اور سپریم کورٹ کا نظر ثانی کرنے والا بینچ مرزا طاہر کی سزائے موت برقرار رکھ چکے ہیں اور صدرِ مملکت خود ان کی رحم کی درخواست مسترد کرچکے ہیں تو اب سزا پر عمل روکنے کا کوئی جواز باقی نہیں۔ انہوں نے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے پھانسی رکوانے کے لیے مداخلت کرنے پر ناخوش ہوتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کوئی پاکستانی اگر کل برطانیہ میں قتل کرکے آئے اور برطانوی عدالت انہیں موت کی سزا دے تو کیا پاکستان حکومت کی مداخلت پر وہ سزا مؤخر کریں گے؟ مقتول کے چچا نے کہا کہ برطانیہ کے دباؤ پر پاکستانی حکومت کا سزا پر عمل نہ کرنا ملکی عدالتی نظام کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے۔ مقتول جمشید کے پچھتر سالہ والد کا تعلق تو مہمند ایجنسی سے ہے لیکن وہ پاکستان بننے سے پہلے سے راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سبزی بیچنے والے دراز قد عبدالغنی اپنی عمر کے اعتبار سے کافی تندرست لگتے ہیں اور ان کے بیٹے بائیس نمبر چوک اور ٹنچ کے علاقے میں ٹھیلا لگاتے ہیں۔
صحبت خان نے بتایا کہ انیس دسمبر انیس سو اٹھاسی کی رات گئے تک جب ان کا بھتیجا جمشید خان گھر نہیں پہنچا تو وہ اُسے ڈھونڈنے نکلے اور روات کے قریب پولیس چوکی سے اطلاع ملنے کے بعد جب وہاں پہنچے تو پیٹرول پمپ کے ملازم امجد مسعود اور میر داد ہوٹل والے نے انہیں بتایا کہ جمشید خان قتل ہوچکا ہے۔ صحبت خان کے مطابق مرزا طاہر نامی نوجوان جمشید کو قتل کرنے کے بعد جب پیٹرول بھروانے کے لیے پمپ پر آئے تو ان کی گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی تھی اور ان کے خون آلود کپڑے دیکھ کر انہوں نے اُسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ واضح رہے کہ اس بارے میں مرزا طاہر کے بھائی کہتے رہے ہیں کہ جب جمشید خان نے ان کے بھائی سے رقم لوٹنے اور جنسی تشدد کرنے کی کوشش کی تو ہاتھا پائی میں گولی چل گئی۔ ان کے مطابق مرزا طاہر برطانوی ریزرو فوج میں تھے اور انہیں جوڈو کراٹے کا فن بھی آتا تھا اور اس لیے وہ جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے اس دعوے کو صحبت خان مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملزم مرزا طاہر مقتول جمشید خان سے گاڑی چھینا چاہتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود جب مرزا طاہر سے جیل میں ملے تھے تو انہوں نے اقرار جرم کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی تھی۔ صحبت خان نے مرزا طاہر کے ایک مبینہ خط کی کاپی دیتے ہوئے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل سے لکھے ہوئے خط میں انہوں نے خود تحریری طور پر اقرار کیا ہے کہ ان سے غلطی ہوگئی ہے۔ سترہ دسمبر سن دو ہزار تین کو لکھے گئے اس خط کے اوپر درج ہے ’مرزا طاہر حسین ولد حاجی فضل حسین مرحوم، قیدی سزائے موت، سیل بلاک نمبر 2، سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور۔‘ ’صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ اور آپ کا مجرم ہوں۔ جمشید خان مرحوم و مغفور کے قتل ناحق جیسے ظلم عظیم پر انتہائی نادم و شرمندہ ہوں اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن اور اللہ کی رضا میں راضی ہوں‘۔ مقتول ٹیکسی ڈرائیور کے چچا صحبت خان نے کہا کہ اٹھارہ برس سے وہ اپنے بھتیجے کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر قانونی جنگ لڑی ہے۔ ان کے بقول وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن غیرت مند ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میڈیا میں یکطرفہ کہانی شائع ہورہی ہے اور ان کا کوئی موقف تک نہیں پوچھتا۔ ان کے مطابق جنسی تشدد کا الزام غلط ہے کیونکہ ان کا خاندان نمازی اور پرہیز گار ہے۔ مقتول کی والدہ سے جب بات کرنا چاہی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور کہا کہ وہ روزانہ اپنے بیٹے کی قبر پر جاتی ہیں اور انہیں یہ دکھ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بائیس سالہ بیٹے کی شادی کی خوشی بھی نہیں دیکھ سکیں۔ مقتول کے خاندان نے چودھری شجاعت حسین کے علاوہ مہمند ایجنسی کے عمائدین کے جرگے کو بھی واپس کردیا ہے اور انہیں خون بخشنے سے انکار کردیا ہے۔ | اسی بارے میں مرزا طاہر، پھانسی یکم نومبر کو18 October, 2006 | پاکستان طاہرکی پھانسی پرعمل درآمد ملتوی19 October, 2006 | پاکستان مرزا کی پھانسی، بلیئر کی اپیل18 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر حسین کی بلیئر سے اپیل06 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر کی سزائے موت پھر مؤخر 27 July, 2006 | پاکستان مرزا طاہر: پھانسی تین اگست کو21 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||