مرزا طاہر: پھانسی تین اگست کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو پھانسی دینے کے لیئے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تین اگست کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ مرزا طاہر حسین کے بڑے بھائی مرزا امجد حسین نے برطانیہ سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لیئے یہ ایک بہت بری خبر ہے اور اب تو آخری سہارا صدر جنرل پرویز مشرف ہیں۔ میں صدرِ پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کریں اور میرے بھائی کو موت سے بچائیں‘۔ گزشتہ اٹھارہ برس سے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام کے تحت جیل میں بند مرزا طاہر حسین اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔ جیل میں وارنٹ برانچ کے ایک اہلکار محمود الحسن نے جمعہ کو بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چار ماہ میں دو بار صدر جنرل پرویز مشرف مرزا طاہر کی سزا پر عمل درآمد روکنے کے لیئے ایک ماہ کی توسیع کا حکم دے چکے ہیں لیکن ان کے ورثاء مقتول کے لواحقین کو راضی نہیں کر پائے۔ مرزا طاہر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سن انیس سو اٹھاسی میں اس وقت قتل کیا تھا جب وہ برطانیہ سے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جارہے تھے۔ اس وقت ملزم کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مرزا طاہر حسین کو بندوق کے زور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور لوٹنے کی کوشش کی تھی اور ہاتھا پائی میں بندوق چلنے سے ڈرائیور قتل ہوگیا تھا۔ پاکستان میں انہیں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا دی گئی اور حکام کے مطابق یکم جون کو ان کے چھتیسویں سالگرہ کے موقع پر انہیں پھانسی دی جانے والی تھی۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور وزیر خارجہ نے بھی انہیں موت کی سزا نہ دینے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی تھی جبکہ برطانوی پارلیمینٹیرینز نے بھی مرزا طاہر کو موت کی سزا سے بچانے کے لیئے مہم شروع کی تھی۔ ان کی کوششوں کے بعد حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے مقتول ڈرائیور کے اہلخانہ سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے خون بہا وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مرزا طاہر حسین کے وکیل سینیٹر خالد رانجھا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مرزا طاہر حسین کو ٹرائل کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی اور لاہور ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران سزا معطل کرکے ٹرائل کورٹ کو دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ ان کے مطابق دوبارہ سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ نے مرزا طاہر کو سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا دے دی۔ وکیل نے بتایا کہ جب عمر قید کی سزا کے خلاف دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو انہیں رہا کردیا گیا۔ خالد رانجھا نے بتایا کہ بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے لکھا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور اپیل کی سماعت کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو ہے۔ جس پر ان کے مطابق شرعی عدالت نے سماعت کی اور ملزم کو نوٹس دیئے بنا موت کی سزا سنادی۔ انہوں نے بتایا کہ تین رکنی شرعی عدالت کے بینچ میں سے ایک جج نے سزائے موت کی مخالفت کی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہوگئی اور بعد میں نظر ثانی کی درخواست بھی رد ہوگئی۔ وکیل نے بتایا کہ اسلامی قانون کے مطابق اب مرزا طاہر کو موت کی سزا سے بچنے کا واحد طریقہ مقتول کے ورثاء کی جانب سے انہیں معاف کرنے کی صورت میں باقی ہے۔ مرزا امجد حسین نے برطانیہ سے فون پر جمعہ کو بتایا کہ انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے مقتول کے ورثاء کو خون بہا دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔ مقتول ڈرائیور کے بھائی نے پہلے کہا تھا کہ وہ قبائلی پشتون ہیں اور اپنی روایات کے مطابق خون کے بدلے رقم لینے کو بڑی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ یا تو بدلہ لیتے ہیں یا پھر معاف کردیتے ہیں لیکن تاحال انہوں نے مرزا طاہر کو معاف نہیں کیا۔ | اسی بارے میں طاہر کو سزائےموت نہ دیں: برطانیہ18 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||