BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرزا طاہر، پھانسی یکم نومبر کو

مرزا طاہر حسین
مرزا طاہر حسین گزشتہ اٹھارہ سال سے جیل میں ہیں
اٹھارہ برس قبل ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے جرم میں سزائے موت کے منتظر برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو یکم نومبر کو پھانسی دی جائے گی۔

اڈیالہ جیل کے حکام نے مرزا طاہر حسین کی سزا پر عملدرآمد کی نئی تاریخ مقرر کرنے کے لیئے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں متعلقہ سیشن جج کو درخواست دی تھی جس پر یہ تاریخ مقرر ہوئی ہے۔

اڈیالہ جیل کے حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مرزا طاہر کی سزا پر عملدرآمد کے خلاف لیا جانے والا تیسرا حکمِ امتناعی بھی یکم اکتوبر کو غیر مؤثر ہو گیا تھا جس کے بعد سزا پر عملدرآمد کی نئی تاریخ مانگی گئی تھی۔

ان کے مطابق ملزم کے بلیک وارنٹ پہلے ہی جاری کیئے جا چکے ہیں اور عدالت کی جانب سے تاریخ ملنے کے بعد اب ملزم اور مدعی کے اہلِ خانہ کو بذریعہ خط مطلع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پھانسی کے لیئے صبح ساڑھے چھ بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لیئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں آئندہ چند دن کے اندر عدالت میں مزید حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔

مرزا طاہر کی پھانسی کی نئی تاریخ آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مرزا طاہر کے اہلِ خانہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے صدر جنرل مشرف سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف تین مرتبہ مرزا طاہر کی پھانسی مؤخر کرنے کا حکم جاری کر چکے ہیں اور آخری حکم ستائیس اگست کو جاری کیا گیا تھا جس کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد کو ایک ماہ کے لئے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

اپنے دورۂ برطانیہ کے دوران ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستانی صدر نے کہا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو نہیں بدل سکتے کیونکہ وہ آمر نہیں ہیں جبکہ برطانوی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ مرزا طاہر کی معافی کے لیئے ہر ممکن کوششیں کرےگی۔

مرزا طاہر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سن انیس سو اٹھاسی میں اس وقت قتل کیا جب وہ برطانیہ سے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا رہے تھے۔ اس وقت ملزم کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ جبکہ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مرزا طاہر حسین کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران ہاتھا پائی میں گولی چلنے سے ڈرائیور ہلاک ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ مرزا طاہر حسین کو سزائے موت سنانے والی مقامی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اس سزا کا دوبارہ جائزہ لیا تھا اور اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ تاہم ملزم کی جانب سے اس سزا کو بھی چیلنج کیئے جانے کے بعد شرعی عدالت نے سزا دوبارہ بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کر دی تھی۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد