پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی جیلوں میں قتل کرنے کے الزام میں سزا یافتہ تین افراد کو بدھ کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں۔ منگل کو ضلعی جیل جہلم میں تین اور میانوالی میں ایک شخص کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ یوں دو دنوں میں پنجاب میں سات افراد کو سزائے موت دی گئی۔ گزشتہ ایک ماہ میں پنجاب میں قتل اور جنسی زیادتی کے جرم میں سزا پانے والے کم سے کم اٹھائیس افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ فیصل آباد کی ضلعی جیل کے سپرنٹنڈنٹ حبیب الرحمن نے بتایا کہ بدھ کی صبح ساڑھے چار بجے جلاد صادق مسیح نے پینتیس سالہ فرخ شہزاد کو پھانسی دی۔ جیل افسر کے مطابق تھانہ ٹھیکری والا کے ایک گاؤں کے رہائشی فرخ پر یہ جرم ثابت ہوا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست عید حسین سے جھگڑا ہونے پر انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد نے فرخ کو سزائے موت دی تھی جس کے خلاف اپیلیں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے خارج ہوگئی تھیں۔ صدر مشرف نے بھی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔ فرخ کی تین بہنیں ہیں جبکہ ماں فوت ہوچکی ہیں اور والد کو ان کی حراست کے دوران میں قتل کردیا گیا تھا۔ جیل حکام کے مطابق فرخ نے پھانسی سے پہلے کہا کہ ان کے والد کو ان کے مخالفین نے قتل کروایا۔ گوجرانوالہ سینٹرل جیل میں رفیق بلا اور عبدالرشید کو صبح ساڑھےچار بجے ایک ساتھ تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ گوجرانوالہ جیل میں شوکت علی نے بتایا کہ ان دونوں کی عمریں چالیس اور پینتالیس کے درمیان تھیں۔ وہ شہر کے محلہ سلامت پورہ کے رہنے والے تھے اور غریب لوگ تھے۔ ان دونوں کو انیس سو ترانوے میں ایک لڑائی میں چھریوں اور خنجروں سے وار کرکے دو افراد محمد عاشق اور اعجاز کو قتل کرنے کے جرم میں سزائےموت ہوئی تھی جو سپریم کورٹ تک نے برقرار رکھی۔ جیل افسر کے مطابق ان دونوں نے آخری وصیت میں کہا کہ لوگ غصہ اور لڑائی جھگڑے سے گریز کریں۔
پنجاب میں چند ہفتوں سے آئے دن پھانسی دیے جانے کے واقعات کا سبب بتاتےہوئے گوجرانوالہ سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ میاں شوکت علی کا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے صدر مملکت پرویز مشرف نے مختلف اوقات میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی اڑھائی سو سے زیادہ رحم کی اپیلیں ایک ساتھ نمٹائی ہیں جن کے نتیجے میں یہ پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ ادھر اسلام آباد سے نامہ نگار نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ محمد ارشد کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو تین اگست کو پھانسی دینے کے لیے ’بلیک وارنٹ‘ جاری کردیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مرزا طاہر حسین اٹھارہ برسوں سے جیل میں ہیں۔ ان کی سزا پر عمل درآمد عین وقت پر دو بار پہلے ملتوی کیا جاچکا ہے۔ | اسی بارے میں جیل میں ہنگامہ، 6 افراد یرغمال24 June, 2005 | پاکستان سزا چھ ماہ، جیل دس سال 03 March, 2005 | پاکستان جیکب آبادجیل میں قیدیوں کا احتجاج29 October, 2004 | پاکستان سرگودھا جیل میں ہنگامہ، 9 زخمی03 September, 2004 | پاکستان پاکستانی جیلوں میں قید بچے12 July, 2004 | پاکستان چارقیدی جیل توڑ کر فرار 03 September, 2005 | پاکستان جیل میں کوڑوں کی سزا ختم06 December, 2005 | پاکستان پنجاب جیلوں میں تین گنا قیدی20 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||