جیل میں ہنگامہ، 6 افراد یرغمال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی جیل میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل عملے کے چھ اراکان کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔ قیدیوں اور جیل عملے کے تصادم میں کم از کم نو قیدی اور ایک جیل ملازم زخمی ہوگئے ہیں۔ قیدی شدید گرمی میں پانی کی قلت اور جیل کے عملے کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سرگودھا پرویز اکبر لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قیدیوں نے اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کے چھ ملازمین کو یرغمال بنالیا ہے۔‘ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ایک قیدی سجاول نے شدید گرمی میں قیدیوں کو گرم پانی پلانے پر احتجاج کیا تھا جس پر مبینہ طور پر جیل کے عملے نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ جمعہ کی نماز کے موقع پر چند قیدیوں نے ڈسٹرکٹ جیل کی مسجد کے مائیک کو سنبھال لیا اور اعلانات شروع کر دئیے جن میں دیگر قیدیوں سے اپیل کی گئی کہ ’ جیل عملے کی قیدیوں سے بدسلوکی اور تمام قیدیوں کو اس شدید گرمی میں ابلتا پانی پلانے کے خلاف متحد ہوجائیں ۔‘ اطلاعات کے مطابق قیدیوں نے مسجد کے نزدیک ایک بیرک کی چھت پر اینٹوں کا ڈھیر لگا کر مورچہ لگا لیا جہاں سے جیل کے عملے اور جیل پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ جیل پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل چلائے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں پر فائرنگ بھی کی گئی ۔ سول ہسپتال سرگودھا کے ایک ملازم فرید نے بتایا کہ نو زخمی قیدیوں میں سے چار کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں جبکہ باقی پتھراؤ سے زخمی ہوئے ہیں۔ سرگودھا پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی ہے اور اس نے جیل کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہےجبکہ جیل کے اندر جیل پولیس کے اہلکاروں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ حکام نے جیل کے باغی قیدیوں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کرایا جاسکے۔ ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں ہنگامہ آرائی کا یہ ایک سال میں دوسرا واقعہ ہے اس سے پہلے ستمبر دو ہزار چار میں ایک انہتر سالہ قیدی اشرف علی کی ہلاکت پر بھی اسی نوعیت کی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||