پنجاب جیلوں میں تین گنا قیدی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب کی تیس جیلوں میں گنجائش سے تین گنا سے بھی زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں جیلوں پر وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر جیل خانہ جات سعید اکبر نوانی نے کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں سترہ ہزار چھ سو سینتیس اسیران رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت اس سے تین گنا سے بھی زیادہ قیدی وہاں رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سینٹرل جیل لاہور میں اسیران رکھنے کی گنجائش ایک ہزار تینتالیس ہے جبکہ اس وقت جیل میں تین ہزار نو سو انہتر افراد مقید ہیں۔ ضلعی جیل شیخوپورہ میں پانچ سو نوے قیدی رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس میں اس وقت اٹھارہ سو چھہتر افراد موجود ہیں۔ اسی طرح گوجرانوالہ کی سینٹرل جیل میں نو سو تیرہ قیدیوں کی جگہ میں تین ہزار سات سو ایک قیدی رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی کو بتایا کہ جیل قوانین کے مطابق سزائے موت کے قیدی کی کوٹھری دس ضرب بارہ فٹ کے رقبہ کی ہوتی ہے جس میں صرف ایک قیدی کو رکھا جاسکتا ہے لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے مقررہ تعداد سے زیادہ قیدیوں کو ان کوٹھریوں میں رکھا گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے اسمبلی کو ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ رمضان میں قیدیوں کو روزے رکھنے پر سزا میں کوئی رعایت نہیں دی جاتی تاہم حکومت عید کے موقع پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں پر بھی عید کے موقع پر دی جانے والی معافی کا اطلاق ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ مسلمان قیدیوں کو قرآن کورسز پاس کرنے پر قید میں رعایت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی مذاہب کے قیدیوں کو بائبل اور گیتا کی تعلیم حاصل کرنے پر قید میں رعایت دینے کے لیے محکمہ داخلہ سے سفارش کی گئی ہے تاکہ اس مقصد کے لیے جیل ضابطے میں مناسب ترمیم کی جاسکے۔ | اسی بارے میں پنچایت کے فیصلہ دو خواتین اغوا06 March, 2006 | پاکستان بسنت : حکومت خون بہا ادا کرے17 March, 2006 | پاکستان پنجاب شادی کھانوں پر دوبارہ پابندی17 March, 2006 | پاکستان ’ارکان اسمبلی نیلی بتیاں اتاردیں‘17 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||