پنجاب شادی کھانوں پر دوبارہ پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی نے جمعرات کو ایک صوبائی قانون کو منسوخ کردیا ہے جس میں شادی کے موقع پر ایک کھانا کھلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کے ایک قانون کے تحت شادی کے موقع پر کسی تقریب میں کھانا کھلانے کی ممانعت ہے۔ صوبائی قانون کی منسوخی کے بعد اب وفاقی قانون لاگو ہوگا۔ اس سے پہلے پنجاب اسمبلی نے سنہ دو ہزار تین میں ایک قانون (شادی کی دعوت پر فضول خرچ کی پابندی کا بل) پاس کیا تھا جس کی رو سے شادی کے موقع پر ایک کھانا کھلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم نومبر سنہ دو ہزار چار میں سپریم کورٹ نے اسے اس بنیاد پر غیر آئینی قرار دے دیا تھا کہ یہ قانون اسی موضوع پر وفاقی قانون سے متصادم تھا۔ عدالت عظمی نے پنجاب حکومت کو اپنے قانون میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں پنجاب اسمبلی نے جمعرات کو اپنے گزشتہ بل کو منسوخ کردیا اور یوں شادی کے موقع پر ایک کھانا کھلانے کی اجازت واپس لے لی۔ وفاقی حکومت نے نواز شریف کے دوسرے دور اقتدار (انیس سو ستانوے -ننانوے) میں شادی کے موقع پر ایک قانون کے ذریعے کھانا کھلانے پر مکمل پابندی لگادی تھی۔ چند روز پہلے صدر جنرل پرویز مشرف نے بیان دیا تھا کہ حکومت شادی کے موقع پر ایک کھانا کھلانے کی اجازت دے سکتی ہے۔اگر صدر کے بیان کے مطابق وفاقی قانون میں ترمیم کردی گئی تو یہ اجازت پنجاب سمیت پورے ملک کےلیے ہوگی۔ | اسی بارے میں ’شادی کھانوں پر پابندی جائز ہے‘05 November, 2004 | پاکستان شادی کا کھانا، حکومت کو تنبیہ15 December, 2005 | پاکستان شادی میں کھانا، وارنٹ جاری06 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||