BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 March, 2006, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بسنت : حکومت خون بہا ادا کرے

پتنگ بازی
سپریم کورٹ نے تا حکم ثانی پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی عائد کردی ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گلے پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کو دیت ادا کرے۔

عدالت عظمی نے تا حکم ثانی پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی عائد کردی ہے۔ عدالت عظمی نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس پر پابندی لگائی تھی جو اس سال پچیس فروری کو بسنت منانے کے لیے چودہ روز کے لیے اٹھائی گئی تھی۔

گزشتہ سال اکتوبر سے عدالت عظمی پتنگ بازی کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے معاملہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے وقفہ وقفہ سے اس معاملہ کی سماعت کرتی رہتی ہے اور مختصر حکم نامے جاری کرتی ہے۔

عدالت عظمی نے آج سماعت کے دروان میں کہا کہ پچیس فروری سے دس مارچ تک پتنگ بازی کی اجازت پنجاب حکومت کے آرڈیننس کے تحت دی گئی تھی۔

پنجاب کی غفلت
 جو لوگ گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک ہوئے ہیں اس کی وجہ پنجاب حکومت کی غفلت ہے اور وہ دیت ادا کرے۔
سپریم کورٹ
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس دوران میں جو لوگ گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک ہوئے ہیں اس کی وجہ پنجاب حکومت کی غفلت ہے اور وہ دیت ادا کرے۔

تاہم عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جو لوگ پتنگ بازی کرتے ہوئے چھتوں پر گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں ان کی ذمہ داری ان کے والدین پر آتی ہے۔ انہیں دیت ادا نہیں کی جائے گی۔

آج عدالت عظمیٰ کے معاون کی حیثیت سے پیش ہونے والے سابق گورنر پنجاب شاہد حامد نے سماعت کے دوران میں کہا کہ اس سال تیرہ فروری سے پندرہ مارچ تک اڑتیس افراد پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کو بجلی فراہم کرنے والے ادارہ لیسکو کے مطابق جن دنوں پتنگ بازی کی اجازت تھی اس دوران میں بجلی کی ٹرپنگ میں ایک ہزار ایک سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

جو چھتوں سے گرے
 جو لوگ پتنگ بازی کرتے ہوئے چھتوں پر گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں ان کی ذمہ داری ان کے والدین پر آتی ہے۔ انہیں دیت ادا نہیں کی جائے گی۔
سپریم کورٹ

پیپلز پارٹی کے رہنما اور قانون دان اعتزاز احسن بھی معاون عدالت کے طور پر پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی عام لوگوں کے لیے ایک کم قیمت تفریح ہے جس کی اجازت ہونی چاہیے لیکن ہلاکتوں کو روکنے کے لیے مؤثر شرائط نافذ کی جائیں۔

انہوں نے ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے تجاویز دیں کہ پتنگ کا سائز مقرر کیاجائے اور موٹر سائیکل والوں کے لیے ہیلمٹ پہننے کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ موٹر سائیکل پر سامنے اینٹینا لگانا ضروری قرار دیا جائے تاکہ ڈور اس سے لپٹ جائے اورگلے تک نہ پہنچے۔

قانون دان ملک قیوم نے پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے خطرناک پتنگ بازی پر پابندی کے قانون کو چیلنج کیا اور کہا کہ یہ محض لفظوں کی ہیرا پھیری ہے۔ عدالت عظمی نے اس پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کردیے۔

آج عدالت عظمی میں آئینی ماہر ڈاکٹر فاروق حسن بھی شہریوں کی طرف سے پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاکتیں ہورہی ہیں اور اس پر پابندی ہونی چاہیے۔

آج عدالت عظمی کا پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس افتخار چودھری، جسٹس خلیل رمدے، جسٹس فقیر محمدکھوکھر، جسٹس راجہ فیاض اور جسٹس اعجاز چودھری پر مشتمل تھا۔

عدالت عظمی اب اس معاملہ کی چھبیس مئی کو دوبارہ سماعت کرے گی۔

اسی بارے میں
بسنتی رنگ پر خون کے چھینٹے
13 February, 2004 | پاکستان
بسنت کے بدلتے رنگ
13 February, 2004 | پاکستان
لاہور کی بسنت میں ایسا کیا
13 February, 2004 | پاکستان
بسنت ’اغوا‘ کیسے ہوئی
13 February, 2004 | پاکستان
وسنت رِتو سے بسنت پنچمی
11 February, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد