پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبۂ پنجاب کی حکومت نے فوری طور پر پورے صوبے میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ رات گئے وزیر اعلی ہاؤس میں ایک اعلی سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اس پابندی کا اطلاق فوری طور پر کیا جائے گا لیکن یہ پابندی صرف پتنگ بازی پر ہی لاگو ہو گی اور لاہور میں ہونے والی جشن بہاراں کی تقریبات معمول کے مطابق ہوں گی۔ لاہور میں پتنگ بازی سے اٹھنے والی عارضی پابندی کے بعد اب تک گلے پر ڈور پھرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد نو ہو چکی ہے اور ایک چار سال کے معصوم بچے کی ہلاکت کے بعد شہر کی کئی سماجی، مذہبی اور سیاسی تنظیموں نے پتنگ بازی کے خلاف بھر پور مظاہرے بھی کیے اور اس پر فوری پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔ پنجاب کے وزیر اعلی پرویز الہی نےمنگل کے روز یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اگر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا تو پتنگ بازی پر چار پانچ روز میں پابندی عائد کر دی جائے گی جبکہ لاہور میں بسنت گیارہ مارچ کی رات اور بارہ مارچ کو منائی جانی تھی۔ وزیر اعلی کے اس اعلان کے بعد بھی ڈور پھرنے سے کچھ ہلاکتیں ہوئیں اور متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت پنجاب نے پورے صوبے میں پتنگ بازی پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پابندی کے لگنے سے پہلے ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ بسنت کی کسی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ | اسی بارے میں پتنگ بازی کی مشروط اجازت10 February, 2006 | پاکستان پانچ مارچ کو بسنت منانے کا اعلان 25 February, 2006 | پاکستان پتنگ ڈور سے تیسری ہلاکت27 February, 2006 | پاکستان ڈور پھرنے سے چار سالہ بچہ ہلاک05 March, 2006 | پاکستان پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||