پتنگ ڈور سے تیسری ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں میں پتنگ کی ڈورگلے پر پھرنے سے اتوار کے دن ایک بیس سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا۔ یہ شہر میں گزشتہ دس روز میں پتنگ بازی کی وجہ سے تیسری ہلاکت ہے۔ بیس سالہ ندیم پاشا موٹر سائکل پر علامہ اقبال ٹاؤن میں گلشن پارک کے پاس سے گزر رہا تھا جب پتنگ کی ڈور اس کے گلے پر پھرنے سے اس کی شہ رگ کٹ گئی۔ زخمی ندیم کو کو قریبی ہسپتال لے جایاگیا لیکن وہ زیادہ خون بہنے سے راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ اس سے پہلے تئیس فروری کو کوٹ لکھپت کے علاقہ میں ایک دس سالہ لڑکا حمزہ پتنگ لوٹتے ہوئے دھاتی ڈور کے بجلی کی تاروں کو چھونے سے کرنٹ لگ کر ہلاک ہوگیا تھا۔ انیس فروری کو اچھرہ میں ایک تین سالہ بچی ماہ نور اپنے والد کے ساتھ موٹر سائکل پر جارہی تھی جب ڈور اس کے گلے پر پھرنے سے اس کی گردن کٹ گئی تھی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی تھی۔ پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات کا سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اکتوبر میں از خود نوٹس لیتے ہوئے پتنگ بازی پر پابندی لگادی تھی جس کی پچیس فروری سے دس مارچ تک صرف چودہ روز کےلیے اجازت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ان چودہ روز میں بھی پتنگ بازی کے لیے بھی نائلون اور شیشہ کا مانجھا لگی ہوئی ڈور کا استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہے جس کے گلے پر پھرنے سے زیادہ تر ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے لاہور میں سپریم کورٹ کے احکام کی خلاف ورزی میں پتنگ بازی جاری رہی ہے اور دس روز میں پتنگ بازی کی وجہ سے اتوار کے روز شہر میں یہ تیسری ہلاکت ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں پانچ مارچ کو بسنت منانے کا اعلان 25 February, 2006 | پاکستان پتنگ بازی کی مشروط اجازت10 February, 2006 | پاکستان پتنگ بازی: سپریم کورٹ سے پانچ رہا08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||