پانچ مارچ کو بسنت منانے کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچیس فروری سے سپریم کورٹ کے حکم مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں پتنگ بازی کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے اور پانچ مارچ کو بسنت منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پچیس فروری سے دس مارچ تک ملک بھر میں پتنگ بازی کی اجازت دی تھی جس کے بعد اس پر عدالت عظمی کے حکم کے مطابق از خود پابندی لگ جائے گی۔ آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیدار گلزار چودھری نے بتایا کہ حکومت نے پانچ مارچ کو ملک بھر میں جشن بہاراں منانے کا اعلان کیا ہے اور اسی روز بسنت ہوگی۔ دوسری طرف ضلعی حکومت نے پتنگ سازی اور پتنگ کی تجارت کے لیے درخواست دینے والے اٹھارہ سو افراد کو چودہ روز کے لیے لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز لاہور کی ضلعی حکومت نے پولیس کو مطلع کیا تھا کہ وہ امتناع پتنگ بازی کے ترمیم شدہ آرڈیننس مجریہ سن دو ہزار چھ پر عمل درآمد کرائے۔ سپریم کورٹ نے پتنگ بازی کی اجازت دیتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ پتنگ باز تندی، شیشہ کا مانجھا لگی ہوئی ڈور اور دھاتی ڈور استعمال نہیں کرسکیں گے۔ پچیس اکتوبر سن دو ہزار پانچ کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بینچ نے چھبیس جنوری تک کے لیے پتنگ بازی پر عبوری پابندی لگادی تھی جو قانونی طور پر چوبیس فروری کو اٹھی ہے۔
پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت عظمی نے اس معاملہ کی از خود خود سماعت شروع کی تھی۔ تاہم گزشتہ کئی روز سے لاہور میں عدالت عظمی کے احکامات کے خلاف ورزی میں پتنگ بازی کا سلسلہ جاری ہے اور لاہور میں گزشتہ ایک ہفتہ میں دو بچے گلے پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے ایسے مقامات کی نشاندہی کی تھی جنہیں سارا سال پتنگ بازی کے لیے مخصوص کر دیا جائے اور چھتوں پر پتنگ بازی ممنوع کردی جائے۔ تاہم ضلعی حکومت اور پولیس کا موقف تھا کہ ان مقامات پر جانے والے لوگوں سے ٹریفک کا ہجوم ہو جائے گا اور بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیدار گلزار چودھری نے کہا کہ چودہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ انتظامیہ اور پولیس کے لیے ہر اس چھت کی نگرانی کرنا عملاً ممکن نہیں جہاں پتنگ بازی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیشہ کا مانجھا لگی ہوئی ڈور اور نائلون کی ڈور (تندی) کا استعمال کریں گے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر ہے کہ شہر کی کھلی جگہوں جیسے شیخوپورہ روڈ، خشک راوی، رائے ونڈ روڈ، جلو پارک وغیرہ میں پتنگ بازی کے لیے جگہیں مختص کردی جائیں یا پتنگ بازی کے پارکس اور اسٹیڈیم بنا دیے جائیں جہاں لوگ داخلہ فیس دے کر جائیں اور پتنگ بازی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ شہر سے باہر کھلی جگہوں پر پتنگ بازی سے انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکتا ہے اور حکومت کو اس سے خاصی آمدن بھی ہوسکتی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں پتنگ اور ڈور کی صنعت اور تجارت سے نو سے دس لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ سپریم کورٹ سترہ مارچ کو پتنگ بازی کے معاملہ کا جائزہ لے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||